خطبات محمود (جلد 22) — Page 348
1941ء 349 خطبات محمود سے لڑتے ہوئے جان دے رہے ہو۔ مگر اس نے کہا مجھے جنت کی نہیں بلکہ دوزخ کی مبارک دو کیونکہ میں نے دین کی خاطر لڑائی نہیں کی بلکہ ان لوگوں سے مجھے ذاتی دشمنی تھی۔ بعض لوگوں کے اطمینان دلانے کے لئے تو یہی بات کافی تھی مگر اس بات کا بھی امکان تھا کہ وہ توبہ کر لے۔ اس لئے وہ صحابی کہتے ہیں۔ میں پھر بھی اس کے ساتھ ہی رہا حتی کہ جب درد حتى درد کی شدت نے اسے اور بھی بے قرار کر دیا تو اس نے نیزہ مار کر خودکشی کر لی۔ رسول کریم صلی اللہ وسلم مجلس میں تشریف فرما تھے کہ یہ صحابی وہاں پہنچے اور کہا یا ر رَسُولَ اللَّهِ أَشْهَدُ أَنْ لَّا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَ أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ ۔ آپ نے فرمایا کیا بات ہے؟ اس نے عرض کیا کہ آپ نے فلاں شخص کے متعلق فرمایا تھا کہ جس نے دوزخی کو دیکھنا ہو اسے دیکھ لے۔ وہ شخص چونکہ بڑی بہادری سے لڑ رہا تھا اس لئے بعض لوگوں کو شبہ ہوا کیونکہ وہ سمجھتے تھے یہ بڑا مخلص ہے اور بڑی قربانی کر رہا ہے۔ ایسے کمزور لوگوں کی حالت کو دیکھ کر میں نے فیصلہ کیا کہ میں اس کے ساتھ رہوں گا جب تک کہ اس کا انجام نہ دیکھ لوں چنانچہ میں نے دیکھا کہ درد کی برداشت نہ کرتے ہوئے آخر اس نے نیزہ مار کر خود کشی کر لی۔ یہ سن کر آپ نے بھی کلمہ شہادت پڑھا اور گواہی دی کہ اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی معبود نہیں اور یہ کہ آپ اللہ تعالیٰ کے بندے اور رسول ہیں۔ 3 تو اشتعال کی وجہ سے اس کی یہ لڑائی جو اس کے لئے بہت بڑی نیکی بن سکتی تھی اس کے لئے عذاب کا موجب بن گئی۔ اگر وہ اپنے دل سے بغض کو دور کر کے لڑتا اور یہ فیصلہ کر لیتا کہ مجھے غصہ تو ان لوگوں کے خلاف ہے ہی۔ مگر لڑائی کی نیت میں خدا تعالیٰ کے لئے کرتا ہوں تو کیا اس کی تلوار اس کے دشمنوں کو زخمی نہ کرتی۔ کیا وہ اس کے ہاتھ سے قتل نہ ہوتے۔ پھر بھی وہی ہوتا جواب ہوا مگر یہ لڑائی اس کے لئے اللہ تعالیٰ کے قرب کا ذریعہ بن جاتی اور وہ بہت بڑے ثواب کا حقدار ہو جاتا مگر اشتعال کی صورت میں یہ اس کے لئے عذاب کا موجب ہو گئی اور اشتعال کے اثر کے ماتحت دیکھ لو۔ اس نے کس طرح اپنے اوپر رحمت الہی کا دروازہ