خطبات محمود (جلد 22)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 336 of 712

خطبات محمود (جلد 22) — Page 336

1941ء 337 خطبات محمود اور چونکہ چھ ماہ کے بعد اللہ تعالیٰ کی طرف سے حالات کے بدل جانے کی اطلاع ہے اس لئے لازماً 15 دسمبر کو یہ خطرے کی حالت جاتی رہے گی چنانچہ وہ ہر انگریز افسر سے یہی کہتے کہ مجھے تو 15 دسمبر کا انتظار ہے جبکہ ایسے حالات پیدا ہو جائیں گے کہ انگریزوں کے لئے یہ خطرہ جو اس وقت در پیش ہے نہیں رہے گا۔ میں نے اس بات کو معلوم کر کے ایک دفعہ ان سے کہا کہ چھ مہینے سے مراد بعض دفعہ نه سات ماہ اور بعض دفعہ پانچ ماہ بھی ہو سکتے ہیں۔ اس لئے آپ کو اس قدر تعیین کرنی چاہئے تھی کہ 15 دسمبر کے بعد حالات بدل جائیں گے۔ انہوں نے جواب دیا کہ میں تو ظاہری لفظوں کی بناء پر ہر ایک سے سے چھ مہینے کا ہی ذکر کرتا ہوں کہ 15 دسمبر کے بعد یہ حالت بدل جائے گی۔ چنانچہ ایسا ہی ہوا اور اللہ تعالیٰ نے ان چھ مہینوں کے بعد انگریزوں سے اس وقت کے خطرہ کی حالت کو دور کر دیا۔ پھر اسی مسجد میں میں نے بتایا تھا کہ ایک بادشاہ میری آنکھوں کے سامنے سے گزارا گیا اور مجھے الہام ہوا کہ ایب ڈی کیٹڈ (ABDICATED)11 اس الہام پر ابھی تین دن نہیں گزرے تھے کہ اللہ تعالی نے بیلجئم کے بادشاہ لیو پولڈ کو ناگہانی طور پر ایب ڈی کیٹ کرا دیا۔ اس الہام کی پہلے تو ہم یہ تشریح کیا کرتے تھے که بیلجیئم گورنمنٹ نے خود یہ اعلان کر دیا تھا کہ ہمارا بادشاہ جرمن قوم کے ہاتھ میں ہے اور اب وہ اپنے فرائض کو ادا نہیں کر سکتا اس لئے بیلجیئم کی قانونی گورنمنٹ ہم ہیں نہ کہ لیوپولڈ۔ مگر اب قریب میں ایک اور ثبوت اس بات کا ملا ہے اور وہ یہ کہ معلوم ہوا ہے کہ لیو پولڈ خود بھی اپنے آپ کو ایب ڈی کیٹ ہی سمجھتا ہے چنانچہ خبر آئی ہے کہ جرمن افسر اس سے بعض ایسے کاغذات پر دستخط سلم کرانا چاہتے ہیں جن میں بیلجیئم کے لوگوں سے یہ اپیل کی گئی ہے ہے کہ کہ وہ جرمن قوم کے ساتھ تعاون کریں مگر وہ کسی کاغذ پر دستخط کرنے کے لئے تیار نہیں ہوتا اور کہتا ہے کہ میں اپنی حکومت کے قانون کے ماتحت اب بادشاہ رہا ہی نہیں اس لئے میں کسی کاغذ پر دستخط نہیں کر سکتا۔ گویا وہ خود بھی یہ سمجھتا ہے کہ اب وہ بادشاہ نہیں رہا اور