خطبات محمود (جلد 22) — Page 335
* 1941 336 خطبات محمود کہ انگریزی حکومت اور فرانسیسی حکومت کا الحاق کر دیا جائے اور دونوں ایک نظام کے ماتحت آ جائیں مگر چھ ماہ کے بعد انگریزوں کی یہ حالت بدل جائے گی۔10 اس رؤیا کے عین مطابق جنگ شروع ہوئی۔فرانس نے اس جنگ میں خطرناک شکست کھائی اور انگریزوں کو ایسا ڈر پیدا ہو گیا کہ مسٹر چرچل نے اپنی ایک تقریر میں کہا کہ ہم انگلستان کے ہر گاؤں میں دشمن سے لڑائی کریں گے اور اگر اس کا انگلستان پر قبضہ ہو گیا تو ہم کینیڈا یا آسٹریلیا میں جا کر اس سے لڑیں گے۔گویا برطانیہ کے وزیر اعظم نے بھی تسلیم کیا کہ اس بات کا امکان ہے کہ جرمنی انگلستان پر قبضہ کرلے اور انہیں کینیڈا یا آسٹریلیا میں جا کر دشمن کا مقابلہ کرنا پڑے۔پھر کس طرح اللہ تعالیٰ نے رؤیا کے اس دوسرے حصہ کو پورا کیا جس میں۔ذکر آتا تھا کہ انگریز فرانسیسی حکومت سے یہ درخواست کریں گے کہ دونوں حکومتوں کا الحاق کر دیا جائے۔آج تک دنیا کی تاریخ میں اس بات کی کوئی مثال نہیں ملتی کہ کسی حکومت نے دوسری حکومت سے یہ درخواست کی ہو کہ ہم دونوں کی حکومت ایک ہو جائے، پارلیمنٹیں بھی ملا دی جائیں اور خوراک کے ذخائر اور خزانہ بھی ایک ہی سمجھا جائے۔مگر اللہ تعالیٰ کی بات پوری ہو کر رہی اور 15 جون 1940ء کو حکومتِ برطانیہ نے فرانسیسی حکومت کو تار دیا کہ دونوں ملکوں کی حکومت ایک کر دی جائے کیونکہ خطرہ بہت زیادہ ہے۔پھر جیسا کہ خواب میں ہی بتا دیا گیا تھا کہ چھ ماہ کے بعد یہ حالت بدل جائے گی۔اس واقعہ کے قریباً چھ ماہ بعد 9 دسمبر کو لیبیا کی لڑائی شروع ہوئی اور 15 دسمبر کو عین چھ ماہ کے بعد برطانیہ کے مقابلہ میں اٹلی کو شکست ہو گئی۔یہ وہ خواب ہے جس کے احمدی بھی گواہ ہیں، غیر احمدی بھی گواہ ہیں، عیسائی بھی گواہ ہیں۔میں نے یہ رویا چوہدری ظفر اللہ خان صاحب کو بھی بتا دیا تھا اور وہ ہمیشہ اپنے ملنے والوں سے کہا کرتے تھے کہ مجھے تو 15 دسمبر کا انتظار ہے۔کیونکہ 15 جون کو برطانیہ نے فرانس کو دونوں حکومتوں کے الحاق کی پیشکش کی