خطبات محمود (جلد 22) — Page 319
1941ء 320 خطبات محمود رض فوت ہو رہے ہو تو اپنے رب کے پاس انعام لینے کے لئے جا رہے ہو اس میں کرب اور اضطراب کی کیا بات ہے؟ وہ یہ سن کر رو پڑے اور کہنے لگے ذرا میرے جسم پر سے گرتا تو اٹھاؤ۔ اس نے گرتا اٹھایا تو آپ نے پوچھا میرے جسم پر تم کیا دیکھتے ہو ؟ وہ کہنے لگا اوپر سے لے کر نیچے تک تمام جگہ تلواروں کے زخم لگے ہوئے ہیں۔ انہوں نے کہا اچھا اب ذرا میرے ازار کو لاتوں تک اٹھا کر دیکھو۔ اس نے دیکھا تو وہاں بھی تلوار کے زخموں کے نشانات لگے ہوئے تھے۔ یہ نشانات دکھا کر حضرت خالد بن ولید کہنے لگے تم دیکھ سکتے ہو کہ میں شہادت کے شوق میں کس طرح جنگوں میں شامل ہوا یہاں تک کہ میرے سر سے لے کر پیر تک ایک انچ جگہ بھی ایسی نہیں جہاں تلواروں کے زخم کا نشان موجود نہ ہو مگر افسوس مجھے شہادت نصیب نہ ہوئی اور میں آج بستر پر جان دے رہا ہوں۔ یہ وہ شخص تھا جس نے احد میں پہاڑ کے پیچھے سے مسلمانوں پر حملہ کیا۔ اسی حملہ کے نتیجہ کے طور پر رسول کریم صلی علی یم ایک گڑھے میں زخمی ہو کر گر گئے تھے اور کفار کو ظاہری طور پر کسی قدر کامیابی بھی ہو گئی تھی۔ پھر وہ ابو جہل جس کا نام ابو الحکم تھا مگر رسول کریم صلی علیم کی مخالفت کی وجہ سه سے اس کا نام ابو جہل پڑ گیا۔ آج شاید اس کی اولاد میں سے بھی بہت سے لوگ نہیں جانتے ہوں گے کہ ہمارے پردادا کا نام ابو جہل نہیں بلکہ ابو الحکم تھا۔ اس کا ابو جہل نام اسلام اور ر رسول کریم صلی العلیم کی مخالفت کی وجہ سے مسلمانوں نے رکھا تھا۔ یہ ظاہر کرنے کے لئے کہ یہ شخص بڑا جاہل ہے اس نے اسلام کی صداقت پر کچھ بھی غور نہیں کیا لیکن اس کے ماں باپ نے اس کا نام ابو الحکم رکھا تھا اور مکہ والے بھی اسے ابو الحکم ہی کہا کرتے تھے۔ یعنی بڑا دانا، بڑا سمجھدار اور بڑا فہیم انسان ہے۔ اس ابو جہل کا بیٹا عکرمہ ایک لمبے عرصہ تک اپنے باپ کے نقش قدم پر چلتا رہا اور تمام جنگوں میں پیش پیش رہا۔ احد کی جنگ میں بھی یہ خالد کے ساتھ مل کر مسلمانوں پر حملہ کرنے والوں میں تھا اور بدر کی جنگ میں بھی اپنے باپ کے ساتھ