خطبات محمود (جلد 22)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 309 of 712

خطبات محمود (جلد 22) — Page 309

* 1941 310 خطبات محمود معنے ہوں گے کہ خدا کی مثل کوئی نہیں لیکن جب کہا جائے گا ليْسَ كَمِثْلِهِ شَيْءٍ تو اس کے معنے یہ ہوں گے کہ خدا تعالیٰ کی مثل ہونا تو بڑی بات ہے مثل بننے کے قریب بھی کوئی نہیں پہنچ سکتا غرض ہی ” نے مثل کا وجو د ثابت نہیں کیا بلکہ اس کی قطعی وو نفی کر دی ہے اور نفی میں تاکید کے معنے پیدا کر دیئے ہیں۔عرب شعراء کے کلام میں بھی اس کی مثالیں ملتی ہیں چنانچہ ایک عرب شاعر نے کہا کہ : أَصْبَحْتَ مِثْلَ عَصْفٍ مَأْكُوْلٍ کہ تو کھائے ہوئے چارہ کی مانند ہو گیا یعنی بالکل ویسا ہی ہو گیا۔پس اگر کسی فقرہ تو کید کا کوئی لفظ آئے تو اگر مثبت ہو تو اس کے معنے ہوتے ہیں کہ بالکل ہی ویسا ہو گیا اور اگر منفی ہو تو اس کے معنے ہوں گے کہ اس کے قریب بھی نہیں پہنچ سکا۔پس ليسَ كَمِثْلِهِ شَيْءٌ کے معنے ہیں کہ خدا تعالیٰ کے مثل ہونا تو الگ رہا اس کی مثل ہونے کے قریب بھی کوئی نہیں پہنچ سکتا۔بعض دفعہ ناقص مشابہت دو چیزوں میں سکتی ہے۔پس مثل پر ہی ” کو بڑھا کر یہ مفہوم پیدا کیا گیا ہے کہ خدا تعالیٰ !۔اور دوسرے وجودوں میں ناقص مشابہت بھی نہیں ہو سکتی۔فرض کرو زید اچھا کاتب بھی ہے، صرفی نحوی بھی اور طبیب بھی ہے۔اب اگر کوئی اور شخص اچھا کاتب ہو تو کہہ سکتے ہیں کہ وہ شخص زید کی طرح ہے۔یہ ناقص تشبیہہ ہو گی جو صرف ایک خوبی کے اشتراک کی وجہ سے دی جا سکتی ہے۔مگر اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ لَيْسَ كَمِثْلِهِ شَيْءٌ ہم ایسے نہیں ہیں کہ کسی کو ناقص مشابہت بھی ہمارے ساتھ ہو سکے۔گویا صرف یہ نہیں کہ میرے جیسا بَصِير ، سَمِيْع ، مُحْيِ مُمِيت اور قدوس کوئی نہیں بلکہ میری کوئی ایک صفت لے لو وہ بھی کسی دوسرے میں نہ پاؤ گے۔صرف سمیع کی صفت لے لو۔سب صفات میں تو کسی کا میرے جیسا ہونا الگ رہا صرف سمیع بھی میرے جیسا کوئی اور نہ ہو گا۔پس ادھوری مشابہت بھی میرے ساتھ نہیں ہو سکتی۔جیسا کہ میں نے اوپر مثال دی ہے کہ زید طبیب بھی ہے، کا تب بھی ہے اور صرفی اور نحوی بھی