خطبات محمود (جلد 22) — Page 306
1941ء 307 خطبات محمود اور کو کیوں پکارتے؟ وہ تو ایک پھونک مارتے اور سب دشمنوں کو تباہ و برباد کر دیتے۔ تو یہ فقرہ حضرت مسیح کے لئے تو تسلی کا موجب تھا مگر ان کو خدا ماننے والوں کے لئے عذاب کا موجب ہے۔ اور وہ دل میں کہتے ہیں کہ کاش یہ فقرہ نہ ہوتا اور یہ کاش کاش انیس سو سال تک کہتے رہے ہیں گو اب اسے اڑا دیا ہے۔ پس اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اے محمد ! تو کہہ دے کہ میرا تو رب موجود ہے اور میں اسی کی طرف مصائب اور مشکلات کے وقت جھکتا ہوں اور اسی پر میرا سہارا ہے۔ اس لئے مجھے کوئی گھبراہٹ نہیں ہو سکتی۔ میں جانتا ہوں کہ میرے خدا نے میرے لئے جو قانون بنایا ہے اسی پر عمل ہو گا تم میرا کچھ نہیں بگاڑ سکتے۔ اور جب تم مجھ پر ظلم کرتے ہو تو میں اس کی طرف جھکتا ہوں اور اور کہتا ہوں کہ اے میرے رب! مجھ پر ظلم ہوا۔ اس سے میرے دل کی بھڑاس نکل جاتی ہے اور تسلی ہو جاتی ہے کہ میرا خدا ضرور میری مدد کرے گا۔ مگر تم لوگ جسے خدا کا شریک بناتے ہو اور جسے دنیا کی پیدائش میں حصہ دار بناتے ہو جب یہ پڑھتے ہو کہ اس نے خود مصیبت کے وقت خدا تعالیٰ سے دعا کی، اور زاری کی تو تمہارا دل کتنا نادم ہوتا ہو گا اور ان کی یہ حالت دیکھ کر تمہارا کیا حال ہوتا ہو گا؟ میرے لئے تو میری دعائیں مصائب کے دور ہونے کا موجب ہوتی ہیں۔ مگر جنہیں تم خدا سمجھتے ہو ان کی ہر دعا تمہارے منہ پر تھپڑ بن کر لگتی ہے۔ ان کو جب بھوک پیاس لگتی ہو گی اور وہ خدا سے غذا اور پانی مانگتے ہوں گے تو وہ تو خدا سے کھانے اور پینے کی چیز پا کر اس کا شکر ادا کرتے ہوں گے کہ اس نے یہ نعمت انہیں عطا کی مگر ان کا کھانا اور پینا تمہارے منہ پر چپت بن کر لگتا ہے اور اس طرح تمہارے معبود تمہاری ذلت اور رسوائی کا موجب ہوتے ہیں۔ پھر فرمایا فَاطِرُ السَّمَوَاتِ وَالْأَرْضِ۔ میرا خدا تو وہ ہے جو زمین اور آسمانوں کا پیدا کرنے والا ہے جس نے بغیر مادہ کے زمین و آسمان پیدا کر دیئے مگر یہ معبودانِ باطلہ تو خود پیدا ہونے والے ہیں۔ ان سے پوچھو تمہارے باپ کا کیا نام ہے، دادا کا کیا نام ہے، نانا اور نانی کا کیا نام ہے تو وہ نام بتائیں گے۔ مگر میرا خدا