خطبات محمود (جلد 22) — Page 305
خطبات محمود 306 * 1941 بَصِير ، مُحْي ، مُمِيت، الشَّافِئ وغیرہ دعوے کرتا ہے تو بیوی یا بچہ کی بیماری کے وقت کسی دوسرے کے آگے کس طرح چلا سکتا ہے اور دعا کر سکتا ہے۔اگر وہ خدا کے سامنے جھکے تو کیا لوگ تمسخر نہ کریں گے کہ تم تو خود خدا بنتے تھے اب کیوں کسی خدا کے سامنے جھکتے ہو۔اور اگر وہ خدا کا مثیل ہونے کا مدعی ہو تو پھر بھی وہ خدا کے سامنے نہیں جھک سکتا کیونکہ جیسا خدا ویسا ہی وہ۔پھر اسے خدا تعالیٰ دعا کرنے کی کیا ضرورت ہے۔پس اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اے محمد ( صلی ) تو کہہ دے کہ ذلِكُمُ اللَّهُ رَبِّي عَلَيْهِ تَوَكَّلْتُ وَإِلَيْهِ أَنيب۔یہ میرا رب ہے اسی پر میرا تو گل ہے اور اسی کی طرف مصیبت کے وقت میں جھکتا ہوں۔عیسائی حضرت مسیح علیہ السلام کو خدا کہتے ہیں مگر انہیں یہودیوں نے صلیب پر لٹکایا تو انہوں نے کہا ایلی ایلی لما سبقتانی۔3اے میرے رب، اے میرے رب، تو نے مجھے کیوں چھوڑ دیا؟ یہ فقرہ عیسائیوں چھنے والا ہے کیونکہ حضرت مسیح کے متعلق ان کے عقائد کو باطل قرار دیتا جب کو کتنا چھنے ہے۔یہی وجہ ہے کہ اب بعض اناجیل میں سے اسے نکال دیا گیا ہے۔حضرت حضرت مسیح خود تو الوہیت کے مدعی نہ تھے وہ تو اپنے آپ کو خدا تعالیٰ کا بندہ ہی سمجھتے تھے ان کا دل تو صلیب پر بھی مطمئن تھا کہ ابھی میرے لئے اپیل کی ایک اور جگہ باقی ہے۔پیلاطوس نے گو مجھے یہود کے رحم پر چھوڑ دیا اور یہود نے میرے خلاف فیصلہ کر دیا مگر ان سب سے ان سب سے بالا ابھی ایک اور حکومت ہے اور میں اس کے پاس چلاؤں گا۔چنانچہ انہوں نے نہایت تضرع سے خد اتعالیٰ کو مخاطب کر کے فرمایا کہ ايلى ايلى لما سبقتانی۔اور اللہ تعالیٰ نے ان کو بچا بھی لیا اگر وہ صلیب سے نہ بھی بچتے تب بھی ان کا دل مطمئن تھا کہ میرا ایک نگران ہے جو یا تو مجھے بچالے گا یا اس کا بدلہ اگلے جہان میں انعامات کی صورت میں دے گا۔مگر عیسائی اس فقر۔کو پڑھ کر بہت گھبراتے ہیں کیونکہ وہ تو ان کو خدا بناتے ہیں اور یہ نہیں سوچتے کہ اگر ان کے اندر خدائی ہوتی، دنیا پر تصرف حاصل ہوتا تو وہ صلیب پر کسی