خطبات محمود (جلد 22)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 297 of 712

خطبات محمود (جلد 22) — Page 297

* 1941 خطبات محمود 298 جائے۔لیکن جب کامیابیاں شروع ہوئیں تو بعض پاجیوں نے تو خدا تعالیٰ پر جھوٹ بنا کر اور بعض لالچی طبائع نے اپنے دماغی خیالات کے زیر اثر الہام وغیرہ کی بناء پر ایسے دعوے کرنے شروع کر دیئے۔یہی حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے زمانہ میں ہوا۔کے زمانہ میں بھی جس وقت تک تکالیف اور دکھوں کا زمانہ تھا کوئی مدعی نبوت پیدا نہیں ہوا۔لیکن جب کامیابیوں کا دور شروع ہوا تو کئی ایسے مدعی پیدا ہو گئے۔بعض ایسے لوگوں نے جن کے نزدیک دنیوی عزت ہی اصل چیز ہوتی ہے یہ سمجھ لیا کہ ہم بھی دعویٰ کرتے ہیں اور اس طرح عزت پا جائیں گے۔یا بعض کو ان کے خیالات نے متمثل ہو کر ایسے خواب دکھائے کہ وہ سمجھنے لگے کہ واقعی وہ مامور ہیں۔یہ خواب وہی حیثیت رکھتے ہیں جیسے کہتے ہیں کہ بلی کو چھیچھڑوں کے خواب۔چونکہ ان کے خیالات اس قسم کے ہوتے ہیں اس لئے ان کو خواب بھی ویسے ہی آنے لگتے ہیں۔چراغ الدین جمونی اور ڈاکٹر عبد الحکیم وغیرہ ایسے ہی لوگوں میں سے تھے اور به سب اسی زمانہ کی پیداوار ہیں جب جماعت کامیابی کے رستہ پر چل پڑی تھی۔1892ء، 1893ء اور 1894ء میں کوئی ایسا مدعی نظر نہیں آتا۔چونکہ یہ وہ زمانہ تھا جب ماریں پڑتی تھیں، بائیکاٹ ہوتے تھے، دنیا کی لعن طعن سہنی پڑتی تھی۔اس لئے کسی کو یہ لالچ اور حرص نہ پیدا ہوتی تھی کہ ہم بھی ایسا دعویٰ کریں لیکن کامیابی شروع ہوئی تو بعض لالچی طبائع نے اپنے خیالات کے نتیجہ میں آنے والے خوابوں کی بناء پر اور بعض نے جھوٹ ہی ایسے دعوے کرنے شروع کر دیئے۔ایسے ہی ایک شخص کے متعلق ایک دوست نے مجھے ایک واقعہ سنایا جو اس نے خود ان سے بیان کیا تھا۔یہ شخص ان میں سے تھا جو بناوٹ سے دعویٰ نہیں کرتے بلکہ جن کے خیالات متمثل ہو کر الہام کی صورت اختیار کر لیتے ہیں۔اس نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ و السلام کی وفات پر اشتہار دے دیا کہ جو لوگ سمجھتے ہیں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ و السلام کی وفات بے موقع ہوئی ہے وہ صحیح نہیں سمجھتے۔مجھے الہام ہوا ہے کہ جماعت کو اس اس طرح ترقی ہونے والی ہے۔حضرت خلیفہ اول نے حُسنِ ظنی سے کام لیتے ہوئے بھی