خطبات محمود (جلد 22)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 289 of 712

خطبات محمود (جلد 22) — Page 289

* 1941 290 خطبات محمود گناہوں کا زنگ لگ جانے کی وجہ سے اللہ تعالیٰ ظاہر میں مجبوریاں پیدا کر دیتا ہے تا وہ ثواب کے اعلیٰ مقام کو حاصل نہ کر سکے۔پس وہ دوست جو مئی تک اپنے وعدوں نہیں کر سکے انہیں کوشش کرنی چاہئے کہ وہ اپنے وعدوں کو جون یا جولائی وہ میں پورا کر دیں تاکہ ان کی پچھلی غفلت کا کفارہ ہو سکے۔اگر کوئی سمجھتا ہے کہ اکتوبر میں اپنا چندہ ادا کر سکتا ہے لیکن اس وجہ سے کہ وہ مئی میں ادا کر کے سابِقُونَ میں شامل نہ ہو سکا۔اب کفارہ کے طور پر اگست میں ادا کر دیتا ہے تو وہ بھی اللہ تعالیٰ کے حضور ویسا ہی ثواب کا مستحق ہے جیسے مئی میں ادا کرنے والے اور اگر کوئی شخص جولائی میں چندہ ادا کرنے کی طاقت رکھتا ہے لیکن وہ اپنی غفلت کے کفارہ کے طور پر اور اپنے نفس پر تکلیف برداشت کر کے جون میں چندہ ادا کر دیتا ہے تو وہ بھی اللہ تعالیٰ کے حضور ویسا ہی سمجھا جائے گا جیسے مئی میں ادا کرنے والے کیونکہ جب کسی سے غفلت ہو جائے تو بعد میں خواہ مقدار کے لحاظ سے زیادہ قربانی کرے اور خواہ تکلیف اٹھا کر میعاد سے قبل اپنے وعدے کو پورا کر دے۔دونوں صورتوں میں اس کی کوتاہی کا کفارہ ہو جاتا ہے اور وہ اللہ تعالیٰ کے فضلوں کا مستحق بن جاتا ہے۔مجھے افسوس ہے کہ بعض لوگ یہ خیال کر لیتے ہیں کہ چونکہ اب مقررہ وقت گزر گیا ہے اس لئے جلدی کی کیا ضرورت ہے؟ ایسے لوگ وقت کے گزر جانے وجہ سے اور بھی سست ہو جاتے ہیں اور خیال کرتے ہیں کہ اب انہیں جلدی کوئی ضرورت نہیں۔مگر میرے نزدیک اس سے زیادہ بد قسمتی کی اور کوئی بات نہیں ہو سکتی کہ انسان پہلے تو کسی مجبوری کی وجہ سے نیکی سے محروم رہے اور بعد میں بے ایمانی کی وجہ سے نیک کام میں حصہ نہ لے سکے۔حالانکہ جو لوگ مجبوری کی وجہ سے کسی نیک کام میں شریک ہونے سے ایک وقت محروم رہتے ہیں۔وہ بعد میں اگر اپنی کوتاہی کا ازالہ کر دیں تو بہت کچھ ثواب حاصل کر لیتے ہیں لیکن اپنی کوتاہی کا ازالہ نہ کرنے والے اللہ تعالیٰ کی رحمت سے حصہ نہیں لے سکتے۔مثلاً