خطبات محمود (جلد 22) — Page 276
1941ء 277 خطبات محمود اپنے لئے یہ الفاظ استعمال کئے تو ان سے مراد بھی نبوت ہی تھی۔ یہ نہیں کہا جا سکتا تھا کہ سب نے غلطی کی۔ یہ تو کوئی کہہ سکتا ہے کہ میں نے غلطی کی یا میں فلاں بات کرنے یا لکھنے کے وقت کسی اور خیال میں مشغول ہوں گا مگر یہ کہ جو الفاظ خدا تعالیٰ نے فرمائے، آنحضرت صلی علیم نے فرمائے، حضرت مسیح موعود عليه الصلوة و السلام نے خود فرمائے، اور آپ کی زندگی میں مولوی محمد علی صاحب بھی استعمال کرتے رہے ان کے متعلق آج یہ کہا جائے کہ ان سب سے مراد وہ نہیں تھی جو لفظوں سے ظاہر ہے بلکہ ان سے مراد کچھ اور ہی تھا۔ تو یہ ایسی بات ہے جسے کوئی معقول انسان کبھی نہیں مان سکتا۔ ہمیں ماننا پڑے گا کہ جو لفظ اس طرح بار بار استعمال ہوا دراصل وہی مقام آپ کا ہے۔ اور جو دو ایک بار استعمال ہوا وہ دراصل ادنیٰ مقام تھا۔ اللہ تعالیٰ کی گواہی، رسول کریم صلی العلم کی گواہی، حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ و السلام کی گواہی اور خود مولوی محمد علی صاحب کی اُس زمانہ کی گواہی جس کے متعلق حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ و السلام کے رویا میں یہ کہا گیا ہے کہ آپ بھی صالح تھے اور نیک ارادہ رکھتے تھے 14 ایک عقلمند کے لئے بالکل کافی ہے۔ اور وہ گواہی جو اس وقت دی جا رہی ہے جب آپ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوة و السلام سے دور ہو گئے اور آپ کے پاس سے اٹھ کر چلے گئے اور آپ کو افسوس سے کہنا پڑا کہ آپ بھی صالح تھے اور نیک ارادے رکھتے تھے آؤ ہمارے پاس بیٹھ جاؤ قابلِ قبول نہیں ہو سکتی۔ ان حالات میں صرف ایک سوفسطائی 15 جو وہم میں مبتلا ہو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ و السلام کے نبی ہونے کا انکار کر سکتا ہے۔ اور ایسے شخص کا کوئی علاج کسی کے پاس نہیں۔ حضرت خلیفة المسیح الاوّل فرمایا کرتے تھے کہ ایسے لوگوں کی مثال وہی ہوتی ہے۔ جیسے ایک نٹ باریک رسی پر چڑھ کر ناچتا، کودتا، چھلانگیں لگاتا اور اپنی جان کو خطرات میں ڈال کر کوئی کھیل دکھاتا ہے تو نیچے سے ایک بڑھا کہہ دیتا ہے میں نہ مانوں۔ ایسے لوگوں کا کوئی علاج ہمارے پاس نہیں۔ ہاں سوچنے والے کے لئے اللہ تعالیٰ، آنحضرت صلی الله یم اور خود مولوی محمد علی صاحب کی وہ