خطبات محمود (جلد 22)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 274 of 712

خطبات محمود (جلد 22) — Page 274

* 1941 275 خطبات محمود اس پر اتنا زور دیا کہ آپ کے بشر ہونے میں کوئی شبہ ہی نہ رہا۔اور یہاں یہ حال ہے کہ الہامات میں بار بار نبی اور رسول ہی کہا گیا ہے۔پھر رسول کریم صل الل علم بھی نبی ہی کہتے ہیں۔اب اس سے آگے چلو۔مان لیا کہ نَعُوذُ بِاللهِ مِنْ ذَالِكَ اللہ تعالیٰ نے بھی بے احتیاطی کی اور رسول کریم صلی الی ایم نے بھی۔اور یہ کام حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ و السلام پر چھوڑ دیا کہ وہ خود اس سوال کو حل کریں اب سب بحثوں کو چھوڑ دو اور آپ کی کتابوں میں دیکھ لو کہ کیا آپ نے اپنے مجدد ہونے کی بخشیں کی ہیں؟ اور منہاج مجددیت کو دشمنوں کے سامنے پیش کیا ہے یا منہاج نبوت کو؟ آپ نے کثرت سے یہی الفاظ استعمال فرمائے ہیں کہ میں نبی ہوں، رسول ہوں۔باقی رہا محدثیت کا سوال، اس پر صرف ابتدائی زمانہ میں اصولی طور پر کچھ بحث کی ہے ورنہ بعد میں مسیحیت اور نبوت پر ہی بحث کی ہے اور یہاں تک فرمایا ہے کہ میرے دعوی کی مشکلات میں سے ایک مشکل نبوت کا دعویٰ ہے گویا آپ کی تحریرات سے جو غلط فہمی دور ہو سکتی تھی اس کا بھی امکان باقی نہیں رہا۔اس کے بعد ایک اور ذریعہ یہ باقی رہ جاتا تھا کہ آپ کے زمانہ کے مصنف اور علماء اس بات پر زور دیتے اور کہتے کہ آپ نے اپنے لئے لفظ نبی جوش میں استعمال فرمایا ہے ورنہ آپ کا اصل مرتبہ محدث کا ہے مگر یہ بات بھی نہیں۔اس زمانہ میں مولوی محمد علی صاحب سب سے اہم رسالہ کے ایڈیٹر تھے۔اسی رسالہ کے جس میں خود حضرت مسیح موعود علیہ الصلوة و السلام مضمون لکھا کرتے تھے اور جن میں سے بعض مضمونوں کو باوجود حقیقت کا علم رکھنے کے محض خوشامد اور چاپلوسی کے طور پر پیغام کا عملہ متعدد بار مولوی محمد علی صاحب کی طرف منسوب کرتا چلا آیا ہے اور مولوی صاحب اس عظیم الشان افتراء کو شیر مادر کی طرح پیتے چلے آئے ہیں اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ و السلام کے مضامین کو اپنی طرف منسوں منسوب ہوتے دیکھ کر خاموش رہے ہیں۔اس اہم رسالہ میں اس کے ایڈیٹر صاحب جن کے قول کو اس وقت بعض پیغامی خدا اور رسول اور امام وقت