خطبات محمود (جلد 22) — Page 271
* 1941 272 خطبات محمود الله سة ایم۔اے نہیں۔اسی طرح نبی مومن بھی ہوتا ہے، صالح اور شہید بھی اور صدیق بھی۔یہ سب لفظ اس کے لئے استعمال ہو سکتے ہیں۔مگر اس کا یہ مطلب نہیں ہوتا کہ وہ نبی نہیں۔عجیب بات ہے کہ آنحضرت صلی الہ وسلم نے تو نَعُوذُ بالله غلطی کی کہ آنے والے کا صحیح روحانی مرتبہ ایک بار بھی بیان نہ فرمایا۔ایک ہی دفعہ اس کے مرتبہ کا ذکر فرمایا۔مگر وہاں بھی نبی اللہ کے نام سے اسے یاد کیا۔اب چاہئے تو یہ تھا کہ اللہ تعالیٰ اس غلطی کا ازالہ فرما دیتا اور کہہ دیتا کہ اس حدیث سے غلطی نہیں کھانی چاہئے۔آپ کا اصل مقام محدث ہے آپ نبی نہیں۔مگر ابتدائی باتیں جو اس نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے کیں ان میں ہی یہ فرمایا کہ دنیا میں ایک نبی آیا پھر آپ کے الہامات کا مجموعہ جو شائع شدہ ہے اس میں کئی سو جگہ آپ کے لئے نبی کا لفظ استعمال ہوا ہے۔وضاحت کے ساتھ یا تشبیہ کے ساتھ۔اور یہ خدا تعالیٰ کا قول ہے۔اور اگر یہ بھی صحیح نہیں تو کہنا پڑے گا کہ اللہ تعالیٰ نے نَعُوذُ بِاللهِ پھر لوگوں کو اسی گمراہی میں ڈال دیا۔عجیب بات ہے کہ اصل مرتبہ کا ذکر یہاں بھی نہیں۔نبی اللہ نبی اللہ ہی بار بار فرمایا ہے۔حتی کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ و السلام فرماتے ہیں کہ بعض اوقات میں رات کو سونے کے لئے لیٹتا ہوں تو تکیہ پر سر رکھتے ہی یہ الہام ہونا شروع ہوتا ہے کہ اِنّى مَعَ الرَّسُولِ أَقُومُ 7۔میں اپنے رسول کے ساتھ کھڑا ہوں۔یعنی میں تمہارے ساتھ ہوں اور تمہاری تائید پر ہوں۔آپ نے فرمایا ہے کہ تکیہ پر سر رکھنے سے لے کر سر اٹھانے تک برابر یہ الہام ہوتا رہتا ہے اور کس قدر عجیب بات ہے کہ یہاں بھی اللہ تعالیٰ آپ کے اصل مرتبہ کو چھوڑ ہی دیتا ہے اور جو مرتبہ محض مشابہت کے لئے ہے اسے بیان کرتا جاتا ہے۔تذکرہ کو دیکھ لو مجدد یا محدث سے سینکڑوں گنے زیادہ نبی اور رسول کے الفاظ آپ کے لئے استعمال ہوئے ہیں۔بلکہ اگر ان الہامات کو شامل کر لیا جائے جو سر تکیہ پر رکھنے کے وقت سے سر اٹھانے تک جاری رہتے تو کہنا پڑے گا کہ لاکھوں گنے زیادہ دفعہ لفظ استعمال ہوا ہے اور کیا ایک سمجھدار انسان کے سمجھنے کے لئے یہ کافی نہیں کہ