خطبات محمود (جلد 22)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 250 of 712

خطبات محمود (جلد 22) — Page 250

خطبات محمود 251 1941 خواہ مخواہ کا فتنہ پیدا کیا جا رہا ہے۔جو اس بات کا ثبوت ہے کہ ان لوگوں کو ملک سے کوئی ہمدردی نہیں اور اس کی مصیبت کا انہیں کوئی احساس نہیں۔حضرت سلیمان کا واقعہ ہے کہ ان کے زمانہ میں ایک شخص کی دو بیویاں تھیں اور دونوں کا ایک ایک لڑکا تھا۔وہ شخص باہر گیا ہوا تھا اور کئی سال باہر رہا تھا اس کی بیویاں : کہیں سفر سے واپس آ رہی تھیں کہ رستہ میں ایک کے لڑکے کو بھیڑیئے نے کھا لیا۔اس نے خیال کیا کہ میرا خاوند آئے گا تو دوسری بیوی کی گود میں چونکہ لڑکا ہے اس سے زیادہ محبت کرے گا اور میری قدر نہیں کرے گا۔پھر اس نے سوچا کہ خاوند تو جب گیا تھا بچے چھوٹے ہی تھے اور وہ تو ان کی شکل سے بھی واقف نہیں۔کیوں نہ میں دوسری کا لڑکا اٹھا لوں کہ یہ میرا ہے اور جسے بھیڑیے نے کھایا وہ دوسری کا تھا۔چنانچہ اس نے ایسا ہی کیا اور دوسری عورت کے بچہ کو اٹھا کر کہا کہ کے پاس یہ میرا ہے۔دونوں میں اس پر بھکڑا ہوا اور مقدمہ حضرت داؤد علیہ السلام - گیا۔انہوں نے اسے حضرت سلیمان علیہ السلام کی طرف منتقل کر دیا۔حضرت سلیمان علیہ السلام نے بہت کوشش کی مگر اصل بات معلوم نہ کر سکے اس پر انہوں نے کہا کہ اچھا چھری لاؤ۔میں لڑکے کو آدھا آدھا کر کے دونوں میں تقسیم کر دیتا ہوں۔اب اصل ماں کی تو مامتا تھی دوسری کو کیا درد تھا؟ وہ کہنے لگی کہ یہ بہت اچھا انصاف ہے اسی طرح کر دیں۔اس نے سوچا کہ جب دونوں کا ہی بچہ نہ رہے گا تو دونوں کی حیثیت ایک سی ہو گی مگر حقیقی ماں نے جب یہ فیصلہ سنا تو کہنے لگی کہ یہ بچہ دوسری کا ہے اسے ہی دے دیں اور ٹکڑے ٹکڑے نہ کریں۔تو جہاں خیر خواہی ہوتی انسان جائز جذبات کو بھی دبا دیتا ہے۔ان لوگوں کے دل میں اگر ملک کی خیر خواہی ہے وہاں پر ہوتی تو ان کو چاہئے تھا کہ کہتے ان باتوں کو ابھی رہنے دیں اس وقت ملک مصیبت ہے یہ باتیں بعد میں دیکھی جائیں گی۔مگر افسوس کہ ان لوگوں نے ایک بے بنیاد بات کو لے کر ایسے نازک وقت میں فتنہ پیدا کرنے کی کوشش کی خصوصیت کے ساتھ مسلمانوں پر افسوس ہے کہ جو اس دھوکا میں آ گئے۔یہ بات نہ ہے اور