خطبات محمود (جلد 22) — Page 227
1941 ء 228 خطبات محمود صد الله س رض نہیں کرنا چاہئے بلکہ مدینہ میں ٹھہر کر مقابلہ کرنا چاہئے آپ یہ رویا دیکھنے کے بعد باہر تشریف لائے اور صحابہ سے فرمایا کہ میں نے ایک خواب دیکھا ہے جس کا مفہوم میں یہ سمجھتا ہوں کہ ہمیں دشمن کا مقابلہ باہر نکل کر نہیں کرنا چاہئے ورنہ ہمیں نقصان ہو گا۔ اس پر کئی جو شیلے نوجوان کھڑے ہو گئے اور کہنے لگے یا رسول اللہ یہ نہیں ہونا چاہئے۔ ہم تو کفر میں بھی کسی سے نہیں ڈرے اب اسلام لانے کے بعد کس طرح ڈر سکتے ہیں؟ آپ مدینہ سے ہمیں باہر لے چلیں، ہم دشمن کا مقابلہ کریں گے۔ غرض انہوں نے خوب زور سے تقریریں کیں۔ جب تقریریں ہو چکیں تو رسول کریم صلی اللی سیم اندر گئے اور جنگ کا لباس پہن کر باہر تشریف لے آئے۔ اتنے میں جو بڑھے اور سمجھدار لوگ تھے انہوں نے نوجوانوں سے کہا کہ نا سمجھو تم نے یہ کیا حرکت کی۔ محمد صلی علیم نے جب ایک بات کہی تھی اور اپنے ایک خواب کا ذکر کیا تھا تو تمہیں جوش میں نہیں آنا چاہئے تھا اور مشورہ دیتے وقت سوچ لینا تھا کہ کہیں وہ رسول کریم صلی علیم کے منشاء کے خلاف تو نہیں۔ جب رسول کریم صلی الم نے اپنا عندیہ قبل از وقت ظاہر کر دیا تھا تو تمہیں ٹھنڈے دل سے اس پر غور کرنا چاہئے تھا نہ یہ کہ جوش میں آکر ایسی بات کہہ دیتے جو رسو رسول کریم صلی الم کے منشاء کے خلاف ہے۔ یہ بات ان کی سمجھ میں بھی آگئی۔ مخلص تو وہ تھے ہی صرف جوش محبت میں انہوں نے یہ کہہ دیا تھا۔ چنانچہ جب رسول کریم صلی العلیم علیہم باہر تشریف لائے تو سب کھڑے ہو گئے اور کہنے لگے یا رَسُولَ اللہ ! ہم سے سخت غلطی ہوئی ہے جو کچھ آپ نے فرمایا وہی درست ہے دشمن کا مقابلہ مدینہ سے باہر نکل کر نہیں بلکہ مدینہ میں رہتے ہوئے کرنا چاہئے۔ اس پر رسول کریم صلی الم نے فرمایا جب خدا کا رسول ہتھیار لگا لیا کرتا ہے تو پھر وہ واپس نہیں لوٹتا۔ چنانچہ آپ باہر گئے اور وہ نقصان جس کی رویا میں خبر دی گئی تھی وقوع میں آگیا ۔6 اب بتاؤ کیا میں محمد صلی العلیم سے زیادہ اپنی جماعت سے فرمانبرداری کی امید کر سکتا ہوں کہ وہ تو اپنی جماعت سے مشورہ لے لیا کریں اور میں مشورہ نہ لیا کروں۔