خطبات محمود (جلد 22)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 223 of 712

خطبات محمود (جلد 22) — Page 223

1941 ء 224 خطبات محمود بلکہ سچ تو یہ ہے کہ جو جو شخص مسجد میں نماز پڑھنے کے لئے نہیں جاتا اس کے پیر تو اگر سونے پر بھی پڑیں گے تو وہ لوہا بن جائے گا کجا یہ کہ پیتل کو وہ سونا بنا دے۔ بھلا جس شخص کے دل میں خدا اور اس کے رسول کی محبت نہیں اور جو اپنی قیمت تو زیادہ لگاتا ہے مگر خدا اور اس کے رسول کے احکام کی قیمت ادنیٰ قرار دیتا ہے اس کی خدا کے حضور کیا وقعت ہو سکتی ہے۔ وہ تو سونے کو بھی ہاتھ لگائے گا تو پیتل بن جائے گا۔ ایسا انسان بھلا مجھے کیا فائدہ پہنچا سکتا ہے اور خود اسے کیا فائدہ ہو سکتا ہے۔ پس میں جو کچھ کہتا ہوں تمہارے فائدہ کے لئے کہتا ہوں تاکہ جب تم مرو تو خدا تعالیٰ تمہیں یہ جواب نہ دے کہ ان کو میرے پاس سے نکال دو۔ ان کا مقام میری جنت نہیں بلکہ دوزخ ہے۔ ورنہ تمہارے جنت میں جانے سے مجھے کیا فائدہ ہو سکتا ہے؟ یا اگر تم دوزخ میں چلے جاؤ تو اس سے مجھے کیا نقصان ہو سکتا ہے؟ میں تو تمہاری بھلائی اور تمہاری خیر خواہی کے لئے کہہ رہا ہوں کہ اپنے طریق عمل پر غور کرو اور خدا کے احکام کو پس پشت نہ ڈالو۔ آخر کب تک تم میں یہ جھگڑے چلے جائیں گے ؟ کب تک تم اپنی ذاتی عداوتوں کی وجہ سے اپنی روح کو نقصان پہنچاتے چلے جاؤ گے اور کب تک تم یہ سمجھو گے کہ واعظ جو کچھ کہتا ہے تمہارے فائدہ کے لئے کہتا ہے اپنے لئے نہیں کہتا۔ اگر انسان کا خدا پر ایمان ہو، محمد صلی اللی سیم پر ایمان ہو اور اس ایمان میں کسی قسم کے نفاق کی آمیزش نہ ہو تو ایک دفعہ کا وعظ بھی اسے مدت العمر کے لئے کافی ہو سکتا ہے مگر تم میں سے بعض ہیں کہ انہیں روزانہ خدا تعالیٰ کے احکام سنائے جاتے ہیں اور پھر بھی وہ ان کی بجا آوری میں غفلت سے کام لیتے ہیں۔ علیروم پس توبہ کرو اور اگر غفلت کی وجہ سے تم نے نماز باجماعت چھوڑ رکھی ہے تو اپنی اس غفلت کو دور کرو اور اگر بے دینی کی وجہ سے تم نماز باجماعت نہیں پڑھتے تو استغفار کرو تاکہ خدا تعالیٰ تمہیں اس بے دینی سے بچائے۔ مسجدوں سے تو ہیں اس لیے دینی سے بچائے۔ مسجدوں سے تمہیں اتنی محبت ہونی چاہئے کہ اگر کوئی شخص تمہیں جوتیاں مار مار کر بھی مسجد سے