خطبات محمود (جلد 22)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 21 of 712

خطبات محمود (جلد 22) — Page 21

$1941 21 خطبات محمود مخالف ہنسی کرے گا، دشمن ٹھٹھے کرے گا اور کمزور ایمان والا طعنہ دے کر کہے گا کہ قربانیوں کا مطالبہ کر کے جماعت کو کمزور کیا جا رہا ہے۔مگر مبارک ہیں وہ جن کے ایمان اُس وقت تقویت پاتے ہیں جس وقت ابھی خدا تعالیٰ کی طرف سے آخری نہیں نکلتا کیونکہ وہی ہیں جو خدا تعالیٰ کی درگاہ میں بڑے سمجھے جانے والے دیکھ لو جب مکہ فتح ہوا تو رسول کریم ال لا لم نے فرما دیا لا هِجْرَةَ بَعُدَ الْفَتْحِ 2 اب اس فتح مکہ کے بعد کوئی ہجرت نہیں۔ہجرت تو لوگ پھر بھی کرتے رہے ہیں او رکئی لوگ بعد میں بھی مدینہ میں مہاجر بن کر گئے۔رسول کریم صلی الله علم تھا کہ وہ جو مہاجرین کے متعلق قرآن کریم نے خبر دی ہے کہ ان کے لئے اللہ تعالیٰ کے حضور بڑے بڑے انعام مقرر ہیں وہ اب سیح مکہ کے بعد ایمان لانے والوں کو نہیں مل سکتے۔اب کوئی نیا ابو بکر پیدا نہیں ہو سکتا، کوئی نیا عمر پیدا نہیں ہو سکتا، کوئی نیا عثمان پیدا نہیں ہو سکتا، کوئی نیا علی پیدا نہیں ہو سکتا، کوئی نیا طلحه پیدا پیدا نہیں ہو سکتا، کوئی نیا زبیر پیدا نہیں ہو سکتا۔غرض وہ لوگ جو اپنے ایمانوں تقویت دیتے اور اپنی زندگیاں خدا تعالیٰ کے لئے وقف کر دیتے ہیں وہی ہیں جن پر برکات کے دروازے کھولے جاتے ہیں۔میرا یہ مطلب نہیں کہ وہ تجارت نہیں کرتے۔صحابہ بھی تجارت کیا کرتے تھے۔میرا یہ مطلب نہیں کہ وہ زراعت اور نہیں کرتے صحابہ بھی زراعت کیا کرتے تھے۔میرا یہ مطلب نہیں کہ وہ کوئی دنیوی کام کیا کرتے تھے بلکہ میرا مطلب یہ ہے کہ وہ تجارتیں تو کرتے ہیں مگر ان کے دل خدا تعالیٰ کے ذکر میں مشغول ہوتے ہیں اور ان کے کان خدا تعالیٰ کی آواز سننے کے منتظر ہوتے ہیں جو نہی ان کے کان میں مؤذن کی آواز آتی ہے وہ اپنی تجارت کو چھوڑ کر، وہ اپنی زراعت کو چھوڑ کر ، وہ اپنی صنعت وحرفت کو چھوڑ کر دوڑتے ہوئے مسجد میں حاضر ہو جاتے ہیں۔اسی طرح جب رات آتی ہے تو یہ نہیں ہوتا کہ وہ اس خیال سے کہ دن کو ہم نے ہل چلانا ہے یا کوئی اور مشقت کا کام