خطبات محمود (جلد 22) — Page 206
1941 207 خطبات محمود جائیں۔وہ طیارے، وہ بحری اور ہوائی جہاز اور وہ گولہ بارود تیار کریں جو ان بموں، تو پوں، جہازوں اور گولوں کو اڑا کر پھینک دیں اور یہ چیزیں ہم آسمان پر دعاؤں کے ذریعہ ہی تیار کر سکتے ہیں اور دعائیں بھی وہ جو رات اور دن گھبراہٹ، کرب اور اضطراب سے کی جائیں اور جو اسی کوشش اور التزام سے کی جائیں جس طرح دوسرے لوگ سامان تیار کرتے ہیں۔جب تک ہماری یہ حالت نہ ہو، مقابلہ میں کامیابی کی امید فضول ہے۔ان دنوں کو غفلت میں نہ گزارو۔خبریں پڑھو تو چاہئے کہ تمہارے دل کانپ جائیں اور ان سے عبرت حاصل کرو اور اس طرح نہ ہو جس طرح قرآن کریم میں ہے کہ کافر لوگ جب عبرت کے سامان دیکھتے ہیں تو اندھوں کی طرح ان پر سے گزر جاتے ہیں۔7 چاہئے کہ رات دن گریہ و زاری میں گزریں آج وہ زمانہ نہیں کہ ہنسو زیادہ اور روؤ کم۔انسان کو چاہئے کہ آج روئے زیادہ اور ہنسے کم۔بلکہ چاہئے کہ انسان روئے ہی روئے اور جنسی اس کے لبوں پر بہت ہی کم آئے تا آسمان سے وہ سامان پیدا ہوں جو ہماری بھی اور دوسرے لوگوں کی بھی کہ بھی ہمارے بھائی ہیں ان تباہ کن سامانوں سے حفاظت کر سکیں۔ذرا غور کرو کہ ایک منٹ میں آکر گولہ لگتا ہے یا مائن پھٹتی ہے اور چشم زدن میں ہزار دو ہزار انسان سمندر کی تہ میں پہنچ کر مچھلیوں کی خوراک بن رہے ہوتے ہیں۔اگر انسان کو کہیں ایک لاش بھی باہر پڑی ہوئی مل جائے تو دل دہل جاتا ہے۔ہزاروں لاشیں روزانہ سمندر میں غرق ہو رہی ہیں۔انگریزی بحری جہازوں کے ڈوبنے کی اوسط ہفتہ وار ساٹھ ہزار ٹن ہے اور بعض دفعہ تو دو لاکھ بیس ہزار ٹن تک بھی جہاز ڈوبے ہیں۔یہ جہاز جو کراچی اور بمبئی وغیرہ میں چلتے ہیں عام طور پر چودہ پندرہ سو ٹن کے ہوتے ہیں۔اور یہ عام طور پر سامان لے جانے کے لئے استعمال ہوتے ہیں مگر پھر بھی ان میں چار پانسو سواریاں ہوتی ہیں۔پس ساٹھ ہزار ٹن جہازوں کے غرق ہونے کے معنی یہ ہوئے کہ چھ ہزار جانیں ہر ہفتہ سمندر کی تہہ میں پہنچ جاتی ہیں۔اتنے برطانوی لوگ گویا ہر ہفتہ ڈوبتے ہیں۔گو ان میں سے یہاں تو