خطبات محمود (جلد 22) — Page 188
1941 ء 189 خطبات محمود بعض سپاہی مکان کے اندر گھس آئے اور ان میں سے ایک نے ان کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا اس شخص کو بھی میں نے لڑتے دیکھا ہے۔ وہ بیچارے گھبرا کر کھڑے ہوئے تو ان سپاہیوں نے وہیں گولیوں سے ان کو مار ڈالا۔ تو ہم کب کہتے ہیں کہ انگریزوں نے ظلم نہیں توڑے۔ انگریزوں نے غدر کے بعد ایسے ایسے ظلم توڑے ہیں کہ ان کا ذکر سن کر انسان کے رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں۔ ہماری نانی کے والد جو ایک دن بھی لڑائی کے لئے باہر نہیں گئے تھے۔ محض اس بناء پر کہ ایک شخص نے کہہ دیا کہ میں نے انہیں بھی لڑتے دیکھا تھا گولیوں سے مار ڈالے گئے۔ اسی طرح کے اور بیسیوں واقعات ہیں۔ کوئی شخص دلی چلا جائے اور پرانے لوگوں سے ملے تو اسے فوراً معلوم ہو جائے گا کہ کس قسم کے دردناک واقعات لوگوں کی زبانوں پر ہیں۔ ہو وہ تو جب کوئی قوم کسی ملک کو فتح کرتی ہے تو اپنی فتح کے غرور میں وہ بڑی بڑی سختیاں کرتی ہے۔ پھر غرور کے علاوہ اس قوم کو یہ ڈر بھی ہوتا ہے کہ اگر مفتوحین کو جلد کچلا نہ گیا تو ممکن ہے یہ پھر بغاوت کر دیں گے۔ گویا ان کے قلوب میں اطمینان نہیں ہوتا اور ہر وقت بغاوت کا خطرہ رہتا ہے۔ اس لئے وہ حد سے زیادہ مظالم ڈھاتے او ر بڑی بڑی سختیاں لوگوں پر کرتے ہیں لیکن جو حکومت مت دیر سے قائم لوگوں کی عادات سے آگاہ ہوتی ہے ہے اس لئے وہ زیادہ سختی سے کام نہیں لیتی۔ مثلاً انگریز اب گاندھی جی کو خوب جانتے ہیں۔ اور وہ سمجھتے ہیں کہ فلاں مواقع پر یہ مقابلہ کرتے ہیں اور فلاں مواقع پر نہیں کرتے اس لئے وہ ان کے مقابلہ میں سختی کا طریق اختیار نہیں کرتے۔ لیکن اگر نئی حکومت ہو اور اس کے ماتحت کوئی شخص اس قسم کی حرکات کرے تو وہ فوراً کہے گی کہ اس شخص کو مار ڈالو کیونکہ اس سے ملک میں بغاوت پیدا ہوتی ہے۔ اسی طرح جب کوئی زبان ہلائے گا فوراً حکومت کے ارکان کہیں گے کہ اب اس کے قتل کے سوا کوئی چارہ ہی نہیں۔ جیسے اٹلی نے جب لیبیا پر قبضہ کیا تو اس نے بڑے بڑے ظلم کئے عرب لوگ ان مظالم کو کثرت سے