خطبات محمود (جلد 22) — Page 186
1941 187 خطبات محمود رکھ دیئے جائیں تو وہ ہمارے حق میں ہی فیصلہ دے گا۔لیکن باوجود اس کے بہ مخالفتیں اس عظیم الشان نتیجہ کے مقابلہ میں کوئی حقیقت نہیں رکھتیں جو اس جنگ سے وابستہ ہے۔اس جنگ میں یہ خواہش کرنا کہ انگریزوں کو سزا مل جائے ایسا ہی جیسے پرائے شگون میں اپنا ناک کٹوا لیا جائے اور یا پھر یہ حرکت ویسی ہی ہو گی جیسے بعض لوگ اپنے بچے کو مار کر دشمن کے گھر میں پھینک دیتے ہیں تا یہ ثابت ہو کہ ان کے بچہ کو دشمن نے مارا ہے۔پس باوجود ان تمام باتوں کے جاننے کے میں سمجھتا ہوں کہ اس وقت ہمیں انگریزوں سے ہمدردی ہونی چاہئے اور ان کی کامیابی کے لئے ہمیں ہر ممکن کوشش کرنی چاہئے۔جو شخص ان باتوں میں مجھ سے زیادہ غیرت مند ہونے کا دعویٰ رکھتا ہو وہ غیرت مند نہیں بلکہ پھیپھا کٹنی کہلانے کا مستحق ہے۔کیونکہ مثل مشہور ہے ”ماں سے زیادہ چاہے، پھیپھا کٹنی کہلائے“ جو شخص اس خلیفہ سے زیادہ جماعت کے متعلق غیرت کا مدعی ہے جس نے ہر قسم کے خطرے کا مقابلہ کیا، جس نے رات اور دن اس جنگ میں حصہ لیا اور جس نے جماعت کی عزت اور اس کے وقار کو قائم کرنے کے لئے ہر طرح کی تکلیف اٹھائی اسے ہم ایک کٹنی تو کہہ سکتے ہیں مگر غیرت مند نہیں کہہ سکتے۔آخر یہ کس طرح ہو سکتا ہے کہ کام تو سب میں نے کیا ہو اور سلسلہ سے محبت کا دعویٰ اسے ہو۔اگر ایسا انسان یہ کہتا ہے کہ کی بڑی غیرت رکھتا ہے اس لئے وہ حکومت سے تعاون نہیں کر سکتا تو میں اسے کہوں گا کہ تم بڑی کٹنی ہو۔اگر ان واقعات پر غیرت آ سکتی تھی تو مجھے آنی چاہئے تھی نہ کہ تم کو۔غرض میرے نزدیک اگر کوئی شخص سچا احمدی ہے اور وہ اسلام سے دلی محبت رکھتا ہے، منافق یا احمق نہیں تو اس کے لئے سوائے اس کے اور کوئی چارہ نہیں کہ وہ جس حد تک ہو سکے کوشش کرے کہ موجودہ جنگ میں انگریزوں کو فتح اور کامیابی حاصل ہو۔میں نے بتایا ہے کہ عقلاً اور سیاستاً میں یہی سمجھتا ہوں کہ مسلمانوں کا بلکہ وہ سلسلہ