خطبات محمود (جلد 22)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 185 of 712

خطبات محمود (جلد 22) — Page 185

1941 ء 186 خطبات محمود اس کی شادی میں چلی جاؤں تاکہ اس کی بدشگونی ہو۔ چنانچہ اس نے اپنا ناک کٹوا دیا اور دوسری کے ہاں چلی گئی۔ اب بے شک اس کی دوسری عورت کے ساتھ لڑائی تھی مگر دشمن عورت کے دل میں نحوست کا احساس پیدا کرنے اور اپنا ناک کاٹ دینے میں بھلا کوئی بھی نسبت تھی۔ بے شک اس عورت کو بھی صدمہ ہوا ہو گا جس کے ہاں یہ نکٹی عورت گئی ہو گی مگر اس عورت کو اپنا ناک کاٹ کر جو نقصان پہنچا وہ اس سے ہزاروں درجے بڑھ کر تھا۔ پس بے شک ہمارا حکومت پنجاب سے جھگڑا ہے مگر ہم ایسے احمق نہیں کہ دوسروں کی بدشگونی میں ہم اپنا ناک کاٹ لیں۔ اس میں کوئی شبہ نہیں کہ ہمیں حکومت سے شکایات ہیں، اس میں کوئی شبہ نہیں کہ ہم یہ یقین رکھتے ہیں کہ اس نے ہم پر ظلم کیا ، اس میں کوئی شبہ نہیں کہ ہم یہ یقین رکھتے ہیں کہ اس نے دشمن کے ساتھ مل کر ہمارے خلاف قدم اٹھایا اور یہ سب امور یقینی اور قطعی ہیں اور ہمارے پاس ایسے واضح ثبوت موجود ہیں کہ اگر ہم دنیا کے کسی ایسے حج کے سامنے ان کو رکھیں جس کا نہ ہمارے ساتھ تعلق ہو اور نہ انگریزوں کے ساتھ تعلق ہو تو نوے فیصدی مجھے یہی یقین ہے کہ وہ ہمارے حق میں فیصلہ دے گا۔ ان کی تحریریں ہمارے پاس موجود ہیں، ان کے بیانات ہمارے پاس موجود ہیں، عدالتوں کے فیصلے ہمارے پاس موجود ہیں، کئی تصاویر ہمارے پاس موجود ہیں جن سے ان کا جرم ثابت ہوتا ہے۔ سے غرض اللہ تعالیٰ کے فضل ایسے رنگ میں ہم نے حکومت کے کارندوں کا اس وقت مقابلہ کیا کہ ہمارے پاس ایسا قطعی اور یقینی مواد جمع ہو چکا ہے کہ اگر کسی منصف مزاج جج کے سامنے اس تمام ریکارڈ کو رکھا جائے تو وہ یقینا ہمارے حق میں ہی فیصلہ کرے گا۔ یہ الگ بات ہے کہ انگریزی عدالتوں میں ہمارے خلاف فیصلہ ہو۔ یہ تو ایسی ہی بات ہے جیسے کہتے ہیں ”آپے میں رجی پجی آپے میرے بچے جیون“۔ لیکن میں سمجھتا ہوں اگر مثلاً کسی سمجھدار امریکن کے سامنے وہ تمام واقعات