خطبات محمود (جلد 22) — Page 16
1941ء 16 خطبات محمود ان کے حکموں پر جان دینے کے لئے تیار رہتی ہیں، انہیں اس بات کا بھی علم ہے کہ رات اور دن کی مشقوں کی وجہ سے وہ لڑائی کے قابل بنا دی گئی ہیں، وہ اس بات سے بھی آگاہ ہیں کہ ان کے پاس ایسے ایسے سامانِ جنگ موجود ہیں جن کے ناموں سے بھی عرب کے لوگ واقف نہیں۔ غرض وہ اس بات کو اچھی طرح سمجھتے ہیں کہ ہمارا دشمن وہ ہے جس کا رعب دنیا کے چاروں طرف پھیل رہا ہے، وہ آدھی متمدن دنیا پر حکمران ہے، اس کے گورنر بیسیوں دور دراز علاقوں پر حکومت کر رہے ہیں اس کی تعداد بہت زیادہ ہے، اس کے پاس سامان جنگ بکثرت موجود ہے اور اس میں لڑنے کی قابلیت بہت زیادہ پائی جاتی ہے۔ مگر جب ایسی حکومت کے مقابلہ میں خلفائے اسلام سو یا دو سو یا چار سو آدمیوں کو بھیجتے ہیں تو ایک ایک، دو دو، چار چار لاکھ کی فوج کا مقابلہ کرنے کے لئے وہ دو یا چار سو آدمی تیار ہو جاتے ہیں اور کہتے ہیں ہم دشمن کا مقابلہ کریں گے۔ پھر وہ سو یا دو سو دشمن کے مقابلہ میں جاتا اور اس یقین اور وثوق سے جاتا ہے کہ لاکھ یا دو لاکھ کی فوج ہمارے مقابلہ میں ایسی ہی ہے جیسے مولیوں یا گاجروں کا کھیت ہوتا ہے اور ہمارا کام اتنا ہی ہے کہ ان پر ہاتھ ڈالیں اور اکھیڑ اکھیڑ کر باہر پھینک دیں اوروہ مسلمان کمانڈر جو دربار خلافت میں یہ فریاد کر رہا ہوتا ہے کہ عیسائیوں کا بڑا بھاری لشکر ہمارے مقابلہ میں آگیا ہے اور میرے پاس ہیں یا تیس یا چالیس ہزار کا لشکر ہے جلد ہی مجھے اور مدد پہنچائی جائے۔ اسے اطلاع جاتی ہے کہ گھبراؤ نہیں ہم پانچ سو آدمی تمہاری مدد کے لئے بھیج رہے ہیں۔ اگر آج کسی کمانڈر کو جو پانچ پانچ سال کالجوں میں ٹریننگ حاصل کرتے ہیں اور ہیں ہیں سال چھاؤنیوں میں کام کرتے ہیں اتنے بڑے لشکر کے مقابلہ میں اتنے قلیل آدمی بھجوائے جائیں تو وہ علی الاعلان فوج کے سامنے اپنا سر پیٹ لے اور کہے مجھے کیسے بدھوؤں سے واسطہ پڑا ہے۔ میں لکھتا ہوں کہ ایک لاکھ منظم فوج، ساز و سامان سے آراستہ فوج، چھاؤنیوں میں ٹریننگ حاصل کرنے والی فوج ہمارے مقابلہ میں ہے اور مدینہ سے مجھے چٹھی پہنچتی ہے کہ گھبراؤ نہیں پانچ سو آدمی آ رہے ہیں۔