خطبات محمود (جلد 22) — Page 145
1941 146 خطبات محمود ایک جگہ سے دوسری جگہ نہیں جا سکتے۔سمندروں میں بعض جگہ برفوں کے تودے پھرنے لگتے ہیں، دریا منجمد ہو جاتے ہیں اور ہوائی جہازوں کی مشینوں کے انجن بھی جا کر اتنا عمدہ کام نہیں کر سکتے جتنا وہ گرمیوں میں کام کر سکتے ہیں۔اس وجہ یورپ میں جو لڑائیاں ہوتی ہیں وہ سردی میں کم ہو جاتی ہیں اور گرمی میں نئے سرے سے تیز ہو جاتی ہیں۔پچھلے سال کا تجربہ بھی یہی ہے کہ نومبر، دسمبر، جنوری، فروری اور مارچ میں لڑائی کم رہی۔مارچ کے آخر میں بیداری شروع ہوئی ، اپریل، مئی میں لڑائی نے زور پکڑا اور جون میں وہ قومیں جو اس وقت جرمنی کے مقابلہ میں سر پر کار تھیں ختم ہو گئیں۔اب پھر وہ دن قریب آ رہے ہیں۔گزشتہ سال تو اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل سے اس عظیم الشان تباہی سے جو بالکل قریب نظر آ رہی تھی بچا لیا مگر اب پھر حالات بدل رہے ہیں اور پھر اس امر کی ضرورت ہے کہ اللہ تعالیٰ کے حضور کثرت سے دعائیں کی جائیں۔نادانوں کے نزدیک تو ان حالات کی کوئی اہمیت نہیں مگر جاننے والے جانتے ہیں کہ یہ حالات کس قدر خطرناک ہیں۔میں نے اگست 1939ء میں ایک خواب دیکھی تھی جس میں مجھے بتایا گیا تھا کہ انگلستان کی حالت خطرے میں ہے۔میں یہ خواب پہلے بھی بیان کر چکا ہوں بلکہ الفضل 1 میں شائع بھی ہو چکی ہے۔میں نے دیکھا کہ میں ایک جگہ بیٹھا ہوا ہوں اور کوئی فرشتہ میرے سامنے بعض کا غذات پیش کر رہا ہے۔وہ کاغذات انگلستان اور فرانس کی باہمی خط و کتابت سے تعلق رکھتے تھے۔مختلف کاغذات پڑھنے کے بعد ایک کاغذ میرے سامنے پیش کیا گیا میں نے اسے دیکھا تو مجھے معلوم ہوا کہ وہ ایک چٹھی ہے جو حکومت انگریزی کی طرف سے حکومت فرانس کو لکھی گئی ہے اور اس چٹھی کا مضمون یہ ہے کہ جنگ کے خطرناک صورت اختیار کر لینے کا سخت اور ڈر ہے کہ جرمنی انگلستان پر قبضہ کر لے۔ان حالات میں ہم فرانس کے سامنے یہ تجویز پیش کرتے ہیں کہ فرانس اور انگلستان کی حکومتیں ایک نظام کے ماتحت ہو جائیں اور دونوں کو آپس میں ملا دیا جائے۔یہ اس وقت کی رؤیا تھی جب