خطبات محمود (جلد 22)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 136 of 712

خطبات محمود (جلد 22) — Page 136

1941 137 خطبات محمود دو گویا عشق تھا۔جب یہ خیال میرے دل میں آیا تو وہ اپنے باغ میں کام کرتا تھا۔میں گھبراہٹ کے عالم میں اس کے پاس گیا اور کہا کہ بھائی دیکھو اور لوگوں کو تو ہو سکتا ہے کہ اچھی طرح سب حالات معلوم نہ ہوں مگر تمہیں تو سب کچھ معلوم ہے۔صرف یہ بتاؤ کہ کیا تم سمجھتے ہو کہ میں منافق ہوں۔مگر اس نے میری طرف منہ کر کے دیکھا بھی نہیں اور اپنے کام میں لگا رہا۔میں نے پھر کہا کہ میں صرف اتنا پوچھتا ہوں کہ تم تو میرے حال سے واقف ہو " کیا میں منافق ہوں“؟ میں چاہتا تھا کہ وہ کہہ دے نہیں اور میرا کلیجہ ٹھنڈا ہو جائے مگر اس نے پھر کوئی جواب نہ دیا اور آسمان کی طرف سر اٹھا کر کہا کہ اللہ اور اس کا رسول بہتر جانتے ہیں۔ایک ایسے شخص سے جو میرے حالات کا پوری طرح واقف تھا، رشتہ دار تھا اور اس سے نہایت گہرے تعلقات تھے یہ جواب سن کر گویا زمین اور آسمان مجھ پر تنگ ہو گئے اور مجھ پر جنون کی حالت طاری ہو گئی۔یہاں تک کہ میں باغ کے دروازہ کی طرف بھی نہیں گیا بلکہ دیوار پھاند کر پاگلوں کی طرح شہر کو چل پڑا۔جب میں شہر میں داخل ہوا تو ایک یہودی نے کہا کہ ایک شخص تمہیں تلاش کرتا پھرتا ہے میں ذرا آگے بڑھا تو وہ ایک اور شخص سے میرا پتہ پوچھ رہا تھا اور وہ شخص میری طرف اشارہ کر کے بتا رہا تھا کہ وہ ہے۔وہ میرے پاس آیا اور کہا کہ یہ غسان کے بادشاہ نے آپ کے نام خط بھیجا ہے۔میں نے اسے کھولا تو اس میں لکھا تھا کہ میں نے سنا تمہارے سردار نے تمہارے ساتھ بہت سختی کا معاملہ کیا ہے حالانکہ تم اپنی قوم کے سردار اور رئیس تھے تمہیں بہت ذلیل کن سزا دی گئی ہے جسے ہم بھی سخت نا پسند کرتے ہیں اور ہمیں تمہارے ساتھ بہت ہمدردی ہے اگر تم ہمارے پاس آ جاؤ تو ہم تمہاری شان کے مطابق عزت کریں گے۔مالک کہتے ہیں یہ خط پڑھ کر میں نے کہا کہ شیطان کا آخری حملہ ہے۔میں چلتا گیا آگے ایک تنور جل رہا تھا وہ خط میں نے اس میں ڈال دیا اور اس قاصد سے کہا کہ اپنے آقا سے کہہ دینا کہ تمہارے خط کا یہ جواب ہے۔وہ کہتے ہیں میں نمازوں میں جاتا، جا کر السّلامُ عَلَيْكُمْ کہتا اور کان لگا کر ہے