خطبات محمود (جلد 22) — Page 124
1941ء 124 خطبات محمود الله س تم ان کا مفہوم سمجھنے میں ضعیف ہو۔ غرض رسول کریم صلی علم کے کلام پر نظر ڈالنے سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ سب کے فائدے کے لئے ہیں، ہر زمانہ کے لئے ہیں اور ہر حالت کے لئے ہیں اور ان میں بڑی بڑی حکمتیں ہیں۔ ان حکمتوں کے نہ سمجھنے کی وجہ سے ہی لوگ ان بحثوں میں پڑ جاتے ہیں کہ فلاں حدیث ضعیف ہے اور فلاں قوی حدیثوں میں سے بعض ضعیف بھی ہوتی ہیں مگر وہی حدیثیں ضعیف ہوتی ہیں جو اصول دین یا اصول اخلاق کے خلاف ہوں۔ ان حدیثوں کو ضعیف قرار دینا جو ایک ہی وقت میں قابل عمل ہوں حماقت اور نادانی ہے اور اہل حدیث اس حماقت میں سب سے زیادہ گرفتار ہیں۔ جتنا زیادہ وہ اپنے آپ کو اہل حدیث کہتے ہیں اتنا ہی انہوں نے رسول کریم صلی علیم کے جائز اور درست کلام پر جرح کی ہے اور انہوں نے رسول کریم صلی علیم کے جائز، درست، صحیح اور پر حکمت کلام کو ضعیف قرار دے کر رسول کریم صلی الم کے کلام کے ایک ٹکڑہ کو بالکل باطل کر دیا ہے۔ اتنے حصہ میں میرے نزدیک حنفی ان سے بہت زیادہ بہتر ہیں۔ انہوں نے یہ اصول قرار دے دیا ہے کہ قرآن مقدم ہے اور حدیث مؤخر۔ اس وجہ سے جن حدیثوں کو اہل حدیث کمزور کہتے ہیں ان کو بھی انہوں نے صحیح قرار دے دیا۔ ہاں ان سے غلطی یہ ہوئی کہ اہل حدیث کی مخالفت میں انہوں نے ان حدیثوں کی طرف زیادہ توجہ دے دی جن کو اہل حدیث کمزور کہتے تھے اور اس طرح اہلحدیث اور حنفی دونوں صحیح راستہ پر قائم نہ رہے۔ پس رسول کریم صلی الیم کے کلام کی حکمتوں کو سمجھو ان کا احترام اپنے دل میں پیدا کرو اور کسی چھوٹی سے چھوٹی بات کو بھی نظر انداز مت کرو کہ وہ فوائد کے لحاظ سے در حقیقت بہت بڑی ہوتی ہے۔ انہی چھوٹی باتوں سے جن کو لوگ بالعموم نظر انداز کر دینے کے عادی ہیں مگر ان کے فوائد بہت بڑے ہیں رسول کریم صلیالم کا ایک حکم یہ ہے کہ مساجد کو صاف رکھو اور جب جمعہ کے لئے مسجد میں آؤ تو اپنے کپڑوں کو صاف کر کے آؤ اور اگر ہو سکے تو عطر بھی لگاؤ۔6