خطبات محمود (جلد 22)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 106 of 712

خطبات محمود (جلد 22) — Page 106

1941ء 106 خطبات محمود دے دیں۔ بہت سے لوگ دین کے احکام کو ایک چٹی خیال کر لیتے ہیں اور سمجھتے ہیں رض کہ اس سے بھی بچ جائیں اس سے بھی بچ جائیں۔ مگر صحابہؓ کی یہ حالت ہوا کرتی تھی کہ وہ چاہتے تھے ہم کو یہ بھی مل جائے ہم کو وہ بھی مل جائے، ہم اس حکم کی بھی فرمانبرداری کریں اور ہم اس کی بھی فرمانبرداری کریں۔ یہی وجہ ہے کہ وہ بہت جلد ترقی کر گئے اور بعد میں آنے والے ویسی ترقی حاصل نہ کر سکے کیونکہ رسول صد الله کریم صلی علیم کے پر حکمت کلام کی قدر ان کے دلوں میں نہ رہی۔ رہی۔ اگر ان کے دلوں رض میں بھی رسول کریم صلی علیم کے احکام کی وہی قدر ہوتی جو صحابہ کے دلوں میں تھی رض تو کوئی وجہ نہیں تھی کہ وہ صحابہؓ سے پیچھے رہتے۔ صحابہ رسول کریم صلی علیم کے بتائے ہوئے امور پر چلنے کے لئے ایسے مشتاق تھے کہ معلوم ہوتا ہے وہ اس بات کو اچھی طرح سمجھتے تھے کہ ہماری ساری نجات رسول کریم صلی العلیم کی فرمانبرداری میں ہے۔ حدیثوں میں ایک واقعہ آتا ہے جس سے پتہ لگتا ہے کہ ان میں کس قدر فرمانبرداری کی روح پائی جاتی تھی بظاہر وہ ایک ایسی بات ہے جسے سن کر کوئی انسان کہہ سکتا ہے کہ یہ کیسی بے وقوفی کی بات ہے لیکن جیسا کہ میں نے بتایا ہے ان کی ترقی کا راز اسی میں مضمر تھا کہ وہ رسول کریم صلی علیم کی زبان سے جب کوئی حکم سنتے تو اسی وقت اس پر عمل کرنے کے لئے آمادہ ہو جاتے۔ احادیث میں آتا ہے حضرت عبد اللہ بن مسعود ایک دفعہ رسول کریم صلی العلیم 66 کی مجلس کی طرف آ رہے تھے۔ آپ ابھی گلی میں ہی تھے کہ آپ کے کانوں میں رسول کریم صلی علیم کی یہ آواز آئی کہ بیٹھ جاؤ معلوم ہوتا ہے ہجوم زیادہ ہو گا اور کچھ لوگ کناروں پر کھڑے ہوں گے۔ رسول کریم صلی العلیم نے انہیں فرمایا۔ بیٹھ جاؤ بیٹھ جاؤ" حضرت عبد اللہ بن مسعود جو ابھی مجلس میں نہیں پہنچے تھے اور گلی میں آ رہے پہنچے تھے اور کبھی میں آ رہے میں آ رہے تھے۔ جب انہوں نے رسول کریم صلی الم کی یہ آواز سنی تو وہ وہیں بیٹھ گئے 1 اور یہ