خطبات محمود (جلد 22)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 104 of 712

خطبات محمود (جلد 22) — Page 104

خطبات محمود 104 1941ء کہ بار بار ان کے الفاظ کانوں میں پڑتے رہتے ہیں لوگ حقیقت معلوم کرنے کی جستجو نہیں کرتے۔ پس ان باتوں پر بار بار زور دو اور اس امر کو اچھی طرح سمجھ لو کہ جب تک یہ جسم مکمل نہیں ہو گا اس وقت تک مذہب کی روح بھی قائم نہیں رہ سکتی۔ گویا ایمان ایک روح ہے اور اخلاق فاضلہ اس روح کا جسم ہیں۔ پس میں تحریک جدید کے تمام کارکنوں اور خدام الاحمدیہ کو توجہ دلاتا ہوں کہ وہ نوجوانوں میں ان باتوں کو پیدا کرنے کی کوشش کریں۔ سپرنٹنڈنٹ کو چاہئے کہ وہ بچوں کے کانوں میں یہ باتیں بار بار ڈالیں اور ماں باپ کو چاہئے کہ وہ اپنی اولاد کو ان باتوں پر پختگی کے ساتھ قائم کریں اور کوشش کریں کہ ان میں جھوٹ کی عادت نہ ہو، دھوکا اور غیبت کی عادت نہ ہو، چغل خوری کی عادت نہ ہو، ظلم کی عادت نہ ہو، وہ فریب کی عادت نہ ہو۔ غرض جس قدر اخلاق ہیں وہ ان میں پید اہو جائیں اور جس قدر بدیاں ہیں ان سے وہ بچ جائیں تاکہ وہ قوم کا ایک مفید جسم بن سکیں۔ اگر ان میں یہ بات نہیں تو وفات مسیح پر لیکچر دینا یا مُنہ سے احمدیت زندہ باد کے نعرے لگاتے رہنا کوئی فائدہ نہیں پہنچا سکتا کیونکہ کوئی روح بغیر جسم کے نہیں رہ سکتی اور کوئی جسم بغیر روح کے مفید کام نہیں کر سکتا۔ جسم کی مثال ایک پیالے کی سی ہے اور روح کی مثال دودھ کی سی۔ جس طرح دودھ بغیر پیالہ کے زمین پر گر جاتا ہے اسی طرح اگر اخلاق فاضلہ کا جسم تیار نہیں ہو گا تو تمہارے لیکچر اور تمہاری تمام تقریریں زمین پر گر کر مٹی میں دھنس جائیں گی لیکن اگر اخلاق فاضلہ کا پیالہ تم ان کے دلوں میں پر رکھ دو گے تو پھر وعظ بھی انہیں فائدہ دے گا اور تقریریں بھی ان میں نیک تغیر پیدا کر دیں گی۔" )الفضل 14 مارچ 1941ء 1 النجم : 9 2 ترندی اَبْوَابُ الْبِرِّ وَالصَّلَةِ بَاب مَا جَاءَ فِي الْغِيْبَةِ