خطبات محمود (جلد 22)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 103 of 712

خطبات محمود (جلد 22) — Page 103

1941ء 103 خطبات محمود نہیں کہ ہماری شریعت میں ان چیزوں کا حل موجود نہیں۔ حل موجود ہے قرآن کریم صد س نے ان امور کی وضاء کو کھول کر بیان کر دیا ہے۔ مگر لوگ ہیں کہ ان باتوں کی طرف توجہ ہی نہیں کرتے۔ حدیثوں میں آتا ہے ایک دفعہ رسول کریم صلی الم نے فرمایا کہ غیبت نہیں کرنی چاہئے اس پر ایک شخص نے کہا یا رسول اللہ ! اگر میں اپنے بھائی کا وہ عیب بیان کروں جو اس میں فی الواقع موجود ہو وضاحت کر دی ہے۔احادیث میں رسول کریم صلی الیم نے تمام باتوں صد الله سلم تو آیا یہ بھی غیبت ہے؟ رسول کریم صلی الی ام الله سر نے فرمایا غیبت اسی کا تو نام ہے کہ تم اپنے بھائی کا اس کی عدم موجودگی میں کوئی ایسا عیب بیان کرو جو فی الواقع اس میں پایا جاتا ہے۔ اور اگر تم کوئی ایسی بات کہو جو اس میں نہ پائی جاتی ہو تو یہ غیبت نہیں بلکہ بہتان ہو گا ۔ 2 اب دیکھو رسول کریم صلی العلیم نے اس مسئلہ کو حل کر دیا اور بتا دیا کہ غیبت اس بات کا نام نہیں کہ تم کسی کا وہ عیب بیان کرو جو اس میں پایا ہی نہ جاتا ہو۔ اگر تم ایسا کرو تو تم مفتری ہو، تم جھوٹے ہو، تم کذاب ہو۔ مگر تم غیبت کرنے والے نہیں۔ غیبت یہ ہے کہ تم اپنے کسی بھائی کا کوئی سچا عیب اس کی عدم موجودگی میں بیان کرو۔ یہ بھی منع ہے اور اسلام نے اس سے سختی کے ساتھ روکا ہے۔ مگر باوجود اس کے کہ محمد صلی علیم نے اس بات کو ساڑھے تیرہ سو سال سے حل کر دیا ہے اور قرآن میں اس کا ذکر موجود ہے۔ اگر اب بھی کوئی غیبت کر رہا ہو اور اسے کہا جائے کہ تم غیبت مت کرو تو وہ جھٹ کہہ دے گا کہ میں غیبت تو نہیں کر رہا میں تو بالکل سچا واقعہ بیان کر رہا ہوں۔ حالانکہ ساڑھے تیرہ سو سال گزرے رسول کریم صلی الم یہ فیصلہ سنا چکے اور عَلَى الْإِعْلان اس کا اظہار فرما چکے ہیں۔ مگر اب بھی اگر کسی کو روکو تو وہ کہہ دے گا کہ یہ غیبت نہیں یہ تو بالکل سچی بات ہے حالانکہ کسی کا اس کی عدم موجودگی میں سچا عیب بیان کرنا ہی غیبت ہے اور اگر وہ جھوٹ ہے تو تم غیبت کرنے والے نہیں بلکہ مفتری اور کذاب ہو۔ س یہ چیزیں ہیں جن کی طرف توجہ کرنے کی ضرورت ہے مگر بوجہ اس کے