خطبات محمود (جلد 22) — Page 89
$1941 89 خطبات محمود شک لوگوں پر یہ فرض قرار دے دیا کہ وہ گھر بار چھوڑ کر مکہ جائیں۔سب مسلمان جمع ہوں اور اس طرح اپنے وطن اور عزیز و اقرباء کی قربانی کا سبق سیکھیں۔۔حقیقی حج یہی ہے کہ انسان ہر قسم کے تعلقات کو منقطع کر کے خدا کا ہو جائے اس کے لئے خدا تعالیٰ نے ایک ظاہری جسم بھی رکھ دیا۔یہی حال صدقہ و خیرات کا ہے۔حقیقی طہارت اور پاکیزگی تو انسان کے خیالات کی ہے لیکن اس کے ساتھ خدا تعالیٰ نے مال کی پاکیزگی بھی ضروری قرار دے دی کیونکہ اس کے بغیر اسے جسم حاصل نہیں ہو سکتا۔اگر خالی لوگوں کی خیر خواہی کا حکم دے دیا جاتا تو لوگ اس حکم کو بھول جاتے مگر اب چونکہ خدا تعالیٰ نے اس خیر خواہی کا یہ نشان رکھ دیا ہے کہ انسان غریبوں کو صدقہ و خیرات دے۔اس لئے جب بھی وہ روپیہ دینے لگتا ہے اسے یہ حکم یاد آ جاتا ہے اور وہ سمجھ جاتا ہے کہ اصل حکم یہ ہے کہ میں سب کا خیر خواہ بنوں اور حتی المقدور انہیں فائدہ پہنچاؤں۔ورنہ انسان ان سے تو محبت کیا ہی کرتا ہے جن سے اس کے دوستانہ تعلقات ہوں۔اسلام یہ ایک زائد حکم دیتا ہے کہ انسان ان سے بھی حسن سلوک کرے جن سے اسے کوئی فائدہ نہ پہنچا ہو بلکہ جن سے فائدہ پہنچنے کی کوئی امید بھی نہ ہو اور یہ نیکی قائم نہیں رہ سکتی تھی جب تک وہ صدقہ و خیرات نہ دے اور جب تک وہ عملاً غرباء اور مساکین سے حسن سلوک نہ پس غریبوں کی محبت کا خیال اور ان سے حسن سلوک کرنے کی تعلیم جو ہے اسے قائم رکھنے کے لئے خدا تعالیٰ نے صدقہ و خیرات کا حکم دے دیا۔اب جو شخص سال بھر میں ایک دفعہ زکوۃ دیتا ہے یا وقتاً فوقتاً صدقہ و خیرات دیتا رہتا ہے اس کے دل میں تو غریبوں کی محبت رہ سکتی ہے مگر جو ایسا نہیں کرتا اس کا دل بھی غریبوں کی محبت سے خالی ہو جاتا ہے۔اسی طرح خدا نے روحانیت کے جو جسم بنائے ہیں ان میں سے ایک جسم اخلاق ہیں۔اخلاق روحانیت کا نام نہیں اور نہ روحانیت