خطبات محمود (جلد 22) — Page 85
$1941 85 خطبات محمود رہے کی وجہ سے کچھ نظر نہ آتا۔مگر حالت یہ ہے کہ مجھے اس شیشہ کی وجہ سے بجائے کچھ نظر نہ آنے کے زیادہ نظر آ رہا ہے۔اس کی وجہ یہی ہے کہ شیشے کا جسم کثیف نہیں بلکہ وہ ایک شفاف جسم ہے اور وہ میری بینائی کے رستہ میں روک نہیں۔بلکہ بوجہ اس کے کہ اس کی ساخت اور اس کا شیشہ میری آنکھ کے مطابق ہے وہ میری بینائی کو تیز کر رہا ہے۔تو دنیا میں خدا تعالیٰ نے ایسی مادی چیزیں بھی رکھی ہوئی ہیں کہ جن میں سے دوسری چیز نظر آ جاتی ہے اور وہ روک نہیں بنتیں۔مثلاً اگر تم جلاؤ اور اس پر چمنی نہ ہو تو تمہیں اندھیرا سا دکھائی دے گا اور اس سے دھواں اٹھتا گا لیکن جو نہی تم اس پر چمنی رکھو اس کی روشنی بیبیوں گنے بڑھ جائے گی حالانکہ چمنی بظاہر اس کی روشنی میں روک بنتی ہے مگر چونکہ اس کو جو جسم ہے وہ نہایت شفاف قسم کا ہوتا ہے اس لئے بوجہ شفاف ہونے کے وہ اس روشنی کو روکتا نہیں بلکہ اسے زیادہ اچھا بنا دیتا ہے۔اسی طرح خواب میں انسان کو جو روحانی جسم ملتا ہے وہ بھی ایک شفاف چیز ہوتی ہے اور اس وجہ سے گو وہ جسم کا ہی کام دیتی ہے مگر اس دنیا کے لوگ اسے دیکھ نہیں سکتے۔وہ صرف ظاہری جسم کو دیکھنے کی طاقت رکھتے ہیں۔ان کی بینائی ایسی تیز نہیں ہوتی کہ وہ ان مادی آنکھوں سے روحانی جسم کو بھی دیکھ سکیں۔یہی حال اگلے جہان میں ہو گا اور وہاں ہر انسان کو لطیف قسم کا ایک روحانی جسم ملے گا بلکہ وہاں کا جہان چونکہ اس جہان سے بہت زیادہ لطیف اور وسیع ہے اس لئے خواب کی حالت میں انسان کو جو جسم ملتا ہے وہ جسم اس سے بھی زیادہ شفاف اور مصفی ہو گا اور اسی لئے وہ جسم ان آنکھوں اور قوی سے نظر نہیں آسکتا۔تو ہر چیز کے لئے ایک جسم کی ضرورت ہوتی ہے مگر وہ جسم اپنی اپنی حالت کے مطابق بدلتے چلے جاتے ہیں۔جتنی روح کثیف ہوتی ہے اتنا ہی اس کو جسم کثیف ملتا ہے اور جتنی روح شفاف ہوتی ہے اتنا ہی اس کو جسم بھی شفاف ملتا ہے۔چنانچہ روح کی حالت جو خواب میں ہوتی ہے وہ اس سے زیادہ صاف ہوتی ہے جو