خطبات محمود (جلد 22) — Page 706
خطبات محمود 706 * 1941 اس لئے ان کے بھائی نے رسول کریم صلی نیلم کے پاس شکایت کی کہ ابو ہریرہ تمام کام چھوڑ چھاڑ کر مسجد میں بیٹھ گیا ہے کماتا کچھ نہیں۔وہ کچھ دن تک تو ابو ہریرہ کو روٹی پہنچاتا رہا مگر آخر کب تک پہنچاتا۔ایک طرف اس کا خرچ زیادہ ہو گیا اور دوسری طرف یوں بھی اس کی تکلیف بڑھ گئی کہ اسے خود ابو ہریرہ کو کھانا پہنچانا پڑتا تھا۔چنانچہ اس نے رسول کریم صلی ال نیم کے پاس شکایت کر دی۔رسول کریم صلی ا ہم نے اسے فرمایا دیکھو کبھی خدا کسی اور کی وجہ سے انسان کو رزق دے دیتا ہے۔تم یہ سمجھ لو تمہیں خدا تعالیٰ جو کچھ رزق دے رہا ہے وہ ابو ہریرہ کی وجہ سے ہی دے رہا ہے۔2 مگر ہر شخص کو مقدرت نہیں ہوتی کہ وہ مسلسل کسی بوجھ کو برداشت کر سکے۔آخر کچھ مدت کے بعد ان کے بھائی نے مدد سے ہاتھ کھینچ لیا اور ابو ہریرہ کو فاقے آنا شروع ہو گئے یہاں تک کہ بعض دفعہ سات سات وقت تک انہیں فاقہ برداشت کرنا پڑا۔رسول کریم صلی ا کرم کی وفات کے بعد جب مسلمانوں کو فتوحات حاصل ہوئیں تو چونکہ مسجد میں بیٹھے رہنے کی اب کوئی ضرورت نہیں تھی اس لئے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بھی مدینہ سے باہر گئے اور انہیں ایک جگہ کا گورنر مقرر کیا گیا۔انہی ایام میں ایران کی فوجوں کو شکست ہوئی اور جو اموال کسری شاہ ایران کے مسلمانوں کے ہاتھ آئے ان میں ایک وہ رومال بھی تھا جو کسری اپنے تخت پر بیٹھتے وقت استعمال کیا کرتا تھا۔اموال کی جب تقسیم ہوئی تو وہ رومال حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کے حصہ میں آیا۔اب بھلا ایک سیدھے سادے مسلمان کی نگاہ میں یہ چیز کیا حقیقت رکھ سکتی تھی۔بے شک بادشاہ کے نزدیک وہ رومال بہت قیمتی تھا اور تبھی وہ تخت پر بیٹھتے وقت اسے استعمال کیا کرتا تھا مگر جب حضرت ابو ہریرہ کے پاس وہ رومال آیا تو اتفاقاً انہیں کھانسی ہوئی اور انہوں نے بلغم اس رومال میں پھینک دی پھر کہنے لگے بخ بخ ابو هريرة یعنی واہ بھئی ابو ہریرہ، واہ بھئی ابو ہریرۃ۔لوگوں نے ہم سمجھے نہیں کہ اس بات کے کہنے کا مطلب کیا ہے۔انہوں نے کہا ایک زمانہ وہ ہوا کرتا تھا کہ رسول کریم صلی ایم کی باتیں سننے کے شوق میں میں ہر وقت مسجد میں