خطبات محمود (جلد 22) — Page 654
* 1941 654 خطبات محمود ناراض ہونے کی بجائے صبر و تحمل سے کام لیا جائے اور مہمانوں کی سختی کو برداشت کیا جائے۔بعض احمدیوں کے ساتھ غیر احمدی بھی ہوتے ہیں اور ان احمدیوں کو احساس ہوتا ہے کہ یہ ہمیں میزبان سمجھتے ہیں اور ان کے آرام کی خاطر مہمان نوازوں سختی بھی کر لیتے ہیں اس لئے وہ اگر کسی منتظم کے ساتھ سختی سے بھی پیش آئیں تو چاہئے کہ وہ آگے سے محبت اور پیار سے ہی جواب دیں، چہرہ پر بشاشت ہو، یہ بھی بہت برکت کا موجب ہوتا ہے کہ آدمی کا چہرہ بشاش ہو۔ایسا بشاش چہرہ انسان کے اپنے لئے بھی اور دوسروں کے لئے بھی خوشی کا موجب ہوتا ہے۔خشک چہرہ والا اپنے آپ کو بھی جلاتا ہے اور دوسروں کو بھی جلاتا ہے۔پس چاہئے کہ کوئی سختی بھی کرے تو آگے سے یہی کہا جائے کہ آپ جو فرمائیں ٹھیک ہے۔آپ جس طرح کہیں ہم اسی طرح کریں گے اور چہرہ پر کوئی گھبراہٹ نہ ہو بلکہ بشاشت ہو۔جلسہ سالانہ کے موقع پر دوسری ضرورت مکانوں کی ہوتی ہے۔دوستوں کو چاہئے کہ زیادہ سے زیادہ مکان منتظمین کے حوالے کر دیں اور جہاں تک ہو سکے اپنے مکان فارغ کر دیئے جائیں۔تیسری بڑی ضرورت کھانے کے انتظام کی ہے۔اس وقت ہر چیز گراں ہو رہی ہے اس وقت پانچ روپیہ من آتا ہے اور اگر بارش نہ ہوئی تو ساڑھے پانچ چھ روپیہ تک ہو جانے کا خطرہ ہے۔اس لئے حالات بہت نازک ہیں، ہر چیز مہنگی ہو رہی ہے۔لکڑی جو پہلے دس بارہ آنہ من تھی اب چودہ آنہ اور ایک روپیہ من ہو گئی ہے بلکہ بعض جگہوں سے تو مجھ کو اطلاع ملی ہے کہ ڈیڑھ روپیہ من تک لکڑی کی قیمت ہو ہے۔اس لئے اس بات کا خاص طور پر انتظام ہونا چاہئے کہ کھانا کہیں زائد نہ جائے۔اس کے لئے انسپکٹر مقرر ہونے چاہئیں۔وہ یہ دیکھیں کہ کسی جگہ کھانا زیادہ نہ جائے اور یہ بھی کہ کم نہ دیا جائے۔اس وجہ سے کہ فی پرچی کھانے کی ایک مقدار معین ہوتی ہے۔بعض لوگ دس مہمان ہوتے ہیں تو ہمیں لکھ دیتے ہیں۔پس کھانا بر تانے والے بھی کھانا پورا دیں۔اگر ایک مہمان پانچ یا دس روٹیاں کھانے والا ہے