خطبات محمود (جلد 22)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 651 of 712

خطبات محمود (جلد 22) — Page 651

* 1941 651 خطبات محمود ان کی مثال اس میراثی کی سی ہوتی ہے جس کی نسبت کہتے ہیں کہ اس نے کسی مولوی کا وعظ سنا کہ نمازیں پڑھنے میں بڑے فائدے ہیں۔دیہاتیوں کے نزدیک تو “ فائدہ ” اسی کو کہتے ہیں جو فوراً مل جائے۔اس نے مولوی صاحب سے پوچھا کہ نماز - ہے۔کیا فائدہ ہوتا ہے۔وہ کچھ اور تو نہ بتا سکا صرف یہ کہا کہ منہ پر نور برسنے لگتا اس نے سوچا کہ چلو نور ہی سہی اور نماز شروع کر دی۔صبح کی نماز کا وقت آیا تو سردی بہت تھی۔اس نے مولوی سے سنا کہ تیم سے بھی نماز ہو جاتی ہے۔اس نے اندھیرے میں ہی تیم کر کے نماز پڑھ لی اور جب ذرا روشنی ہوئی تو بیوی سے کہا کہ دیکھو تو سہی میرے چہرہ پر کوئی نور ہے۔اس نے کہا کہ مجھے تو پتہ نہیں نور کیا ہوتا ہے لیکن تمہارے منہ پر سیاہی آگے سے زیادہ ہے۔اصل بات یہ تھی کہ اس نے اندھیرے میں تیم کرنے کے لئے جو ہاتھ مارے تو وہ توے پر پڑے اور ہاتھوں پر بھی اور منہ پر بھی سیاہی لگ گئی۔جب بیوی نے کہا کہ منہ پر سیاہی زیادہ ہے تو اس نے اپنے ہاتھوں کو دیکھا اور کہا کہ اگر نور کالا ہوتا ہے تو پھر تو گھٹا باندھ کر آیا ہے۔دیکھو لو میرے ہاتھ بھی کالے ہیں۔تو دنیا میں ایک طبقہ ایسا بھی ہوتا ہے جو خدا تعالیٰ کی باتوں کو بھی جسمانیات کی طرف لے جاتا ہے اور ایسے لوگوں کو میں متنبہ کرتا ہوں کہ میری اس بات سے وہ دھوکا میں نہ پڑیں۔مصائب اور مشکلات انبیاء کا خاصہ ہے۔حدیث میں آتا ہے کہ جتنا کوئی شخص خدا تعالیٰ کا پیارا ہوتا ہے اتنا ہی وہ زیادہ مشکلات میں گھرا ہوا ہوتا ہے1 خدا تعالیٰ کی طرف سے برکات کے وعدہ سے میرا مطلب وہ ہے جو خدا تعالیٰ کے لئے برکت دینے کا رنگ ہے۔میرے خطبہ کی دوسری بات یہ ہے کہ ہمارا جلسہ سالانہ سر پر آ گیا ہے اور اس موقع پر بہت سے آدمیوں اور بہت سے مکانوں کی ضرورت ہوتی ہے۔پچھلے سال مکانات کی بہت تکلیف ہو گئی تھی مگر پھر اللہ تعالیٰ نے فضل کر دیا اور احباب جماعت کے دلوں میں جوش پیدا کر دیا اور انہوں نے مکانات خالی کر دیئے۔اب کے میں