خطبات محمود (جلد 22)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 620 of 712

خطبات محمود (جلد 22) — Page 620

خطبات محمود 620 * 1941 اپنے آپ کو ہی روحانی لحاظ سے بلند نہیں کرتا بلکہ اپنے ماں باپ کو بھی بلند کرتا ہے۔دنیا میں لوگ کتنی خواہش کرتے ہیں کہ کاش کوئی ایسا ذریعہ ہوتا جس سے ہم اپنے ماں باپ کی روحانی ترقی میں حصہ لے سکتے۔اور کئی ہیں جو پوچھتے رہتے ہیں کہ ہمارے ماں باپ فوت ہو گئے ہیں یا بیوی فوت ہو گئی ہے یا بچے فوت ہو گئے ہیں ان کو ثواب پہنچانے کے لئے ہم کیا طریق اختیار کریں۔ان کا جی چاہتا ہے کہ وہ دس روپے غریبوں کو دے دیں اور اس کے بدلہ میں ان کے ماں باپ کو جنت کے بلند ترین مقام پر پہنچا دیا جائے۔ان کا جی چاہتا ہے کہ وہ کپڑوں کا ایک جوڑا صدقہ دے دیں اور اس کے نتیجہ میں ان کی بیوی یا ان کے بچوں کو جنت کے اعلیٰ ترین مقامات میسر آ جائیں۔حالانکہ یہ عارضی راحت پہنچانے والی چیزیں ہیں اور ان کے بدلہ میں اگر اتنا بھی ثواب مل جائے کہ جنت کی خوشبو کسی کو سونگھا دی جائے تو یہی ثواب بہت بڑا ہے مگر جو گر خدا تعالیٰ نے قرآن مجید میں بتا دیا ہے اس کی طرف لوگ کوئی توجہ نہیں کرتے۔کتنے ہیں جو کہتے رہتے ہیں کہ ہمارے ماں باپ مر گئے ہیں۔ان کو کس طرح ثواب پہنچایا جائے۔کتنے ہیں جو کہتے رہتے ہیں کہ ہمارے بچے فوت ہو گئے ہیں ہم ان کو کس طرح ثواب پہنچائیں۔کتنے ہیں جو کہتے رہتے ہیں کہ ہماری بیویاں فوت ہو گئی ہیں۔ہم کیا کریں جس کے نتیجہ میں انہیں جنت کے اعلیٰ مقامات حاصل ہوں۔میں ان سب سے کہتا ہوں کہ آؤ میں تمہیں بتاؤں قرآن کریم میں لکھا ہے تم جنت کے جس درجہ میں ہو گے اسی درجہ میں تمہارے ماں باپ اور بیوی بچوں کو رکھا جائے گا۔پس اگر تم ماں باپ کو فائدہ پہنچانا چاہتے ہو تو اپنے ماں باپ سے زیادہ نیک بنو، متقی بنو اور اللہ تعالیٰ کے قرب کی راہوں میں غیر معمولی طور پر بڑھنے کی کوشش کرو۔پھر جنت کے جس اعلیٰ مقام کو لو گے۔اللہ تعالیٰ تمہارے ماں باپ اور تمہارے بیوی بچوں کو اسی جگہ لا کر رکھ دے گا۔مگر جو گر خدا نے بتایا ہے اس کی طرف تو لوگ توجہ نہیں کرتے اور چاہتے ہیں معمولی سی قربانی کے نتیجہ میں ان کے متعلقین کو جنت میں بہت بلند مقام حاصل ہو۔