خطبات محمود (جلد 22)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 618 of 712

خطبات محمود (جلد 22) — Page 618

* 1941 618 خطبات محمود حاصل نہیں۔اسی طرح اور کئی چیزیں ہیں جو پہلے بہت اعلیٰ تھیں۔پس میرا یہ مطلب نہیں کہ جو کچھ ترقی کی ہے انگریزوں نے ہی کی ہے بلکہ میں یہ کہنا چاہتا ہوں کہ ہے ملک نے جب بھی ترقی کی ہے۔اس نے اچھے بیج بھی پیدا کئے ہیں، اچھے گھوڑے ہر بھی پیدا کئے ہیں، اچھے بیل اور اچھے مرغے بھی پیدا کئے ہیں مگر جب ملک کی توجہ ان چیزوں کو ترقی دینے کی طرف نہ رہی تو ان کی عمدگی کا معیار قائم نہ رہا اور پھر پہلی سی خرابیاں پیدا ہو گئیں۔بہر حال ترقی پذیر زمانہ کی علامت یہ ہے کہ وہ اپنے سے سابق معیار کو بڑھا دیتا ہے اور بڑھاتا چلا جاتا ہے اور جب وہ اس کام سے غافل ہو جاتا ہے تو پھر تنزل شروع ہو جاتا ہے اور تاریکی کا دور دنیا پر غالب آ جاتا ہے۔یہی حال انسانوں کا ہے انسان ایک زمانہ میں ترقی کرتے اور ترقی کرتے کرتے بڑے بلند مقام پر پہنچ جاتے ہیں مگر جب آئندہ نسل کی حفاظت نہیں کی جاتی تو وہ بھی گر جاتے ہیں اور وہ اپنے ساتھ اپنی نسل اور اپنے زمانہ کو بھی لے گرتے ہیں۔وہ انسان جو ایسی ترقی سے گرنے والے ہوتے ہیں وہ بڑے ہی بدبخت ہوتے ہیں۔اس لئے کہ وہ اپنے آپ کو بھی تباہ کرتے ہیں اور دوسروں کو بھی تباہ کرتے ہیں۔حقیقت یہ ہے کہ جو ترقی کرنے والے وجود ہوتے ہیں وہ دنیا کے لئے عمود اور ستون کے طور پر ہوتے ہیں اور یہ صاف بات ہے کہ جب ستون گرے گا تو چھت بھی گر پڑے گی پس ایسے لوگوں کا گرنا صرف انہی کی ذات سے تعلق رکھنے والا ایک فعل نہیں ہوتا بلکہ دوسروں پر اثر انداز ہونے والا فعل ہوتا ہے اس لئے وہ خدا کے حضور جواب دہ ہوتے ہیں کیونکہ خدا ان سے کہے گا کہ تم ایسی حالت میں تھے کہ تم پر اور لوگوں کا بھی انحصار تھا۔پس تم نے اپنے آپ کو گر اکر باقی دنیا کو بھی تباہ کر دیا۔جیسے عربی میں ضرب المثل مشہور ہے کہ مَوْتُ الْعَالِمِ مَوْتُ الْعَالَمِ یعنی جب کوئی عالم مر جاتا ہے تو سار اجہان ہی مر جاتا ہے۔اس لئے کہ اس کے مرنے سے علم مٹ جاتا ہے، روحانیت مٹ جاتی ہے اور ان فوائد کا سلسلہ منقطع ہو جاتا ہے جو لوگوں کو پہنچ رہے ہوتے ہیں۔یہی وجہ ہے کہ قرآن کریم نے