خطبات محمود (جلد 22)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 613 of 712

خطبات محمود (جلد 22) — Page 613

* 1941 613 خطبات محمود دونوں لحاظ سے انسان کے لئے ترقی کی بہت بڑی گنجائش ہے۔مجھے ہمیشہ انگریزی قوم کی پرانی تصویریں اور آجکل کے انگریزوں کی شکلیں دیکھ کر حیرت آتی ہے کہ ان میں کس قدر فرق پیدا ہو گیا ہے۔پرانی تصویروں سے معلوم ہوتا ہے کہ انگریز کسی زمانہ میں بالکل چھوٹے قد کے تھے مگر اب انگریزوں کو دیکھ لو ان کے اتنے لمبے قد ہوتے ہیں کہ ہمارے ملک کے اچھے قد آور لوگ بھی ان کی طرف نظریں اٹھا کر دیکھتے ہیں۔ہمارے موجودہ وائسرائے اور ان کے بیوی بچے سارے اتنے لمبے قد کے ہیں کہ ہمارے ملک کے قد آور مرد بھی ان سے نیچے رہ جاتے ہیں۔حالانکہ اسی قوم پرانی تصویریں دیکھی جائیں تو معلوم ہوتا ہے کہ پہلے انگریز معمولی چھوٹے قد کے تھے لیکن اس قوم نے اپنی نسل کی ترقی کی طرف توجہ کی اور ایسے سامان پیدا کئے کہ جن سے آئندہ نسل زیادہ بہتر ہو سکتی تھی۔چنانچہ اب انگریز پہلے۔زیادہ قد آور اور مضبوط ہوتے ہیں۔یہی حال اور متمدن ممالک کا ہے۔لیکن ہمارے ملک میں گورنمنٹ بھی گھوڑوں کی بہتری کے لئے تو کوشش کرتی ہے، گدھوں کی سے بہت ہے، بہتری کے لئے تو کوشش کرتی ہے، مرغوں کی بہتری کے لئے تو کوشش کرتی بیلوں کی بہتری کے لئے تو کوشش کرتی ہے، بکریوں کی بہتری کے لئے تو کوشش کرتی ہے مگر انسانی نسل کی بہتری کے لئے کوئی کوشش نہیں کرتی اور ہمارے ملک کے لوگ تو بالکل آنکھیں بند کئے بیٹھے ہیں اور انہیں اپنی نسلوں کی ترقی کی طرف کوئی توجہ نہیں۔انہیں صرف یہ خیال رہتا ہے کہ روٹی پیٹ بھر کر مل جائے۔چاہے وہ روٹی کھانے والا کتنا ہی ذلیل وجود کیوں نہ ہو۔حالانکہ اچھی روٹی کے لئے اچھے کھانے والوں کی بھی تو ضرورت ہوتی ہے۔جس طرح اچھے گھوڑے کے لئے اچھے سوار کی ضرورت ہوتی ہے اگر ایک انسان کو ناگوری بیل کی خواہش ہے تو اس ناگوری بیل کے لئے ایک چوڑے چکلے سینہ والے مضبوط آدمی کی بھی تو ضرورت ہو گی۔آخر خود ہی سوچو وہ آدمی کیسا بد نما معلوم ہو گا جو خود تو ٹھنگنا سا اور دبلا پتلا ہو اور کھانستا چلا جا رہا ہو مگر اس کے آگے آگے ناگوری بیل جارہا ہو۔اسی طرح روٹی