خطبات محمود (جلد 22)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 603 of 712

خطبات محمود (جلد 22) — Page 603

+ 1941 603 خطبات محمود بغاوتیں ہوتی رہتی تھیں۔ادھر مسلمان بادشاہوں نے دکن فتح کیا تو اُدھر بنگال باغی ہو گیا۔اس طرح پھر ایک حصہ ان کے قبضہ سے نکل گیا۔شاید دو تین سال تک ایسا ہوا ہے کہ ظاہر میں یہ دکھائی دیتا تھا کہ سارا ہندوستان مغلوں کے ماتحت بھی اور نگ زیب کی آخری عمر میں لیکن اس تھوڑے سے عرصہ کے سوا کبھی بھی ہے اور وہ تمام ہندوستان ایک حکومت کے ماتحت نہیں آیا۔حالانکہ بڑی بڑی حکومتیں گزری ہیں۔مغلوں کی حکومت بہت بڑی تھی۔ان سے پہلے پٹھانوں کی حکومت بہت بڑی - تھی۔پھر ان سے پہلے ہندوؤں میں سے اشو کا خاندان کی حکومت بہت بڑی تھی اور اس کے ماتحت اتنا بڑا علاقہ تھا کہ اگر ایسی حکومت ہندوستان سے باہر ہوتی تو اس کی بہت بڑی عظمت ہوتی۔اشوکا کی حکومت اتنی بڑی تھی کہ اگر جرمنی، فرانس اور اٹلی کو اکٹھا کر دیا جائے تو اس سے بھی اس کی حکومت زیادہ وسیع تھی مگر اب اس حکومت کا نشان تک موجود نہیں۔اسی طرح ہندوستان سے باہر جو حکومتیں ہیں۔ان میں سے مصر کی حکومت کسی زمانہ میں بہت بڑی تھی۔لوبیا کی حکومت کسی زمانہ میں بہت بڑی تھی۔روما نے بھی ایک وقت بڑی بھاری حکومت کی ہے۔سپین کی حکومت بھی بہت بڑی حکومت تھی۔آسٹریا کو بھی ایک زمانہ میں بڑی بھاری طاقت حاصل تھی۔مگر اب ان حکومتوں کا نام و نشان تک نہیں ملتا۔آخر یہ کیوں ہوا اور کیوں اتنی بڑی حکومتیں بے نام و نشان گئیں۔محض اس لئے کہ انہوں نے مرابطہ نہیں کیا۔جب انہیں حکومت ملی تو انہوں نے یہ خیال کر لیا کہ اب ہم بالکل محفوظ ہو گئے ہیں۔حالانکہ یہی وقت قوموں کی زندگی میں خطرناک ہوتا ہے۔اور ان کا فرض ہوتا ہے کہ جب انہیں غلبہ میسر آ جائے تو وہ اس کی حفاظت میں لگی رہیں۔انگریزوں کو دیکھ لو ان کو خدا نے ایک لمبے عرصہ تک حکومت بخشی ہے مگر اس کی وجہ یہی ہے کہ یہ ہمیشہ اپنی سرحدوں کی حفاظت کرتے ہیں اس جنگ میں ہی وہ ہندوستان کی سرحدیں پکڑ کر بیٹھے ہیں اور لاکھوں فوجیں انہوں نے وہاں جمع کر رکھی ہیں۔یہی مرابطہ ہے جس