خطبات محمود (جلد 22) — Page 595
* 1941 595 خطبات محمود ایک دن میں بھی گیا اور میں نے دیکھا کہ اس ریل کے دروازوں اور کھڑکیوں کے آگے روکیں بنی ہوئی ہیں۔میں نے لوگوں سے دریافت کیا کہ یہ روکیں کیوں بنائی ہیں تو انہوں نے بتایا کہ ایک دن کچھ فوجی اس ریل کا نظارہ دیکھنے کے لئے آئے تھے۔جب وہ ریل کے اندر سوار ہوئے اور اس نے پہاڑ پر چڑھنا شروع کر دیا تو ایک فوجی کو جو گورا سپاہی تھا اتنا ڈر پیدا ہوا کہ اس نے اوپر سے چھلانگ لگا دی نیچے گرتے ہی ٹکڑے ٹکڑے ہو گیا۔اس لئے اب ریل کے دروازوں اور کھڑکیوں کے آگے روک بنا دی گئی ہے۔اسی طرح انہوں نے بتایا کہ پہلے ریل کے ارد گرد بہت سی غاریں بنائی گئی تھیں اور ہمالیہ پہاڑ کا نظارہ دکھانے کے لئے کسی جگہ مصنوعی شیر بنائے گئے تھے جو منہ کھولے کھڑے تھے، کئی جگہ چیتے بنائے گئے تھے، کئی جگہ ہاتھی بنائے گئے تھی۔اس کی وجہ سے لوگوں پر اتنی دہشت طاری ہوتی تھی کہ وہ اس کی برداشت نہیں کر سکتے تھے۔مگر اب کئی غاریں ہٹا دی گئی ہیں۔پھر جب وہ ٹرین نیچے کی طرف آتی تھی تو ایسی شدت کے ساتھ گرتی تھی کہ یوں معلوم ہوتا تھا انسان موت کے منہ میں جا رہے ہیں۔اب اس فوجی نے جو چھلانگ وہ اس لئے نہیں لگائی تھی کہ اس کے لئے کوئی بیرونی خطرہ پیدا ہو گیا تھا بلکہ اس نے اس لئے چھلانگ لگائی تھی کہ اس کا دل خوفزدہ ہو گیا تھا اور وہ سمجھتا تھا کہ شاید چھلانگ لگا کر میں اس خطرہ سے بچ جاؤں گا۔اسی طرح بیسیوں لوگ ہر سال ہلاک ہوتے ہیں۔کوئی پہاڑ سے اپنے آپ کو گرا دیتا ہے ، کوئی مینار کی چوٹی سے گر کر ہلاک ہو جاتا ہے۔مگر اس لئے نہیں کہ ان کا ارادہ خود کشی کا ہوتا ہے بلکہ صرف اس لئے کہ بلندی پر پہنچ کر انہیں ایسا خوف معلوم ہوتا ہے کہ انہیں یوں محسوس ہوتا ہے کوئی شخص انہیں نیچے کھینچ رہا ہے اور وہ گر کر ہلاک ہو جاتے ہیں۔جن لوگوں کے معدے خراب ہوں ان کے ساتھ اکثر ایسا ہوتا ہے کہ بلندی پر پہنچ کر ان کا سر چکرانے لگتا ہے اور اگر معدہ زیادہ کمزور ہو تو بعض دفعہ اس حالت کے نتیجہ میں ہلاکت تک نوبت پہنچ جاتی ہے۔میری اپنی یہ حالت ہے کہ میرا معدہ لگائی