خطبات محمود (جلد 22)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 594 of 712

خطبات محمود (جلد 22) — Page 594

* 1941 594 خطبات محمود وہ دوسروں کا مال کھا لیتے ہیں، ان کی جائدادوں کا نقصان کر دیتے ہیں مگر خود شیطان اور اس کے حقیقی نمائندہ نفس کو یہ اختیار حاصل نہیں۔اسی لئے اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے۔اصبر ڈا۔یہ نہیں فرمایا کہ دشمن کا مقابلہ کرو بلکہ فرمایا ہے صبر کرو اس لئے کہ وہاں مقابلہ کی ضرورت ہی نہیں مقابلہ کی وہاں ضرورت ہوتی ہے جہاں حملہ حقیقی ہو۔مثلاً کوئی شخص کسی دوسرے کو پکڑ کر پہاڑ کی چوٹی سے نیچے گرانا چاہتا ہو تو وہاں حقیقی مقابلہ کی صورت ہو گی۔اور اگر وہ مقابلہ نہیں کرے گا تو دوسرا شخص اسے کھڈ میں پھینک دے گا یا مثلاً تنور جل رہا ہو اور کوئی شخص کسی دوسرے کو پکڑ کر اس میں گرانا چاہتا ہو اور وہ اپنی چاہتا ہو اور وہ اپنی مدد کے لئے لوگوں کو آوازیں دے رہا ہو تو اس وقت اگر ہم دور ہوں گے تو اسے فوراً آواز دیں گے کہ اس شخص کا خوب مقابلہ کرو ہم بھی تمہاری مدد کے لئے آ رہے ہیں لیکن اگر کسی جگہ باہر کا دشمن کوئی نہ ہو صرف انسان کا دل خوف زدہ ہو اور وہ ڈر رہا ہو تو اس وقت ہم اسے یہ نہیں کہیں گے کہ دشمن کا مقابلہ کرو بلکہ کہیں گے کہ اپنے دل کو مضبوط کرو کیونکہ کر دل کا خوف بھی ایسی چیز ہے کہ اس کے نتیجہ میں کئی لوگ اپنے آپ کو ہلاک لیتے ہیں۔حالانکہ ان کے سامنے کوئی حقیقی خطرہ نہیں ہوتا۔صرف ان کے دل میں خوف پیدا ہو چکا ہوتا ہے۔جن دنوں میں حج کے لئے گیا تھا ایک شخص نے ایک ریل ایجاد کی ہوئی تھی جس سے اس کا مقصد لوگوں کو یہ بتانا تھا کہ اگر ہمالیہ پہاڑ پر ریل لے جانی ہو تو کس طرح پہنچائی جا سکتی ہے۔پہاڑ کے چکروں میں اگر ریلوے لائن بنائی جائے تو چونکہ بہت زیادہ خرچ ہوتا ہے اس لئے اس نے ایسی ایجاد کی تھی کہ ریل سیدھی پہاڑ پر چڑھ جائے اور چکر کھا کھا کر اوپر نہ جانا پڑے۔اس غرض کے لئے اس نے ریل اور پہاڑ کا نمونہ تیار کیا تھا۔جب گورنمنٹ نے اس کی طرف کوئی توجہ نہ کی تو بعد میں اس نے اپنی رقم نکالنے کے لئے بڑے بڑے شہروں میں اس کی نمائش روع کر دی۔میں ان دنوں بمبئی میں تھا جب اس کی نمائش کی جا رہی تھی