خطبات محمود (جلد 22)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 552 of 712

خطبات محمود (جلد 22) — Page 552

خطبات محمود 552 * 1941 جن میں تاویل سے کام لے لیا جاتا ہے۔مثلاً کسی بڑے قحط کی پیشگوئی ہو اور دنیا میں فی الواقع قحط پڑنا شروع ہو جائے تو گو وہ معمولی قحط ہو اور پیشگوئی کے مطابق بہت بڑا قحط نہ ہو۔مگر انسان تاویل کے طور پر اُسے کسی مدعی کی طرف منسوب کر ہیں اور کہہ سکتے ہیں کہ بڑا قحط نہیں پڑا تو چھوٹا قحط تو پڑا ہے۔اسی طرح کسی پیشگوئی کے مطابق اگر بڑی موت نہ آئے تو چھوٹی موت کسی کے دعویٰ کی سچائی کی طرف منسوب کی جا سکتی ہے۔مگر یاجوج و ماجوج کا فتنہ جس کی قرآن نے خبر دی تھی، جس کی حدیثوں میں خبر موجود تھی اور جس کے متعلق پہلی کتب میں بھی پیشگوئیاں پائی جاتی تھیں اور بعض جگہ نام لے کر اور بعض جگہ بے نام اس کی خبر دی گئی تھی۔اتنا بڑا فتنہ تھا کہ لوگوں کو یہ جرات ہی نہیں ہوئی کہ وہ جھوٹے طور پر اسے کسی کی طرف منسوب کریں یا تاویل کے طور پر کسی اور فتنہ پر اس فتنہ کی نگوئیوں کو چسپاں کر دیں۔پرانے زمانے میں بھی بعض بڑے بڑے فتنے ہوئے ہیں۔مثلاً ہلاکو خاں کا فتنہ بہت بڑا فتنہ تھا۔اس نے بغداد اور اسلامی سلطنت کو تباہ کر دیا تھا۔اسی طرح امیر تیمور کے حملوں کو لوگ نہایت ظالمانہ قرار دیتے ہیں اور وہ بڑی دور تک حملہ کرتے نکل آیا تھا مگر باوجود ان فتنوں کی اہمیت کے یاجوج و ماجوج سے تعلق رکھنے والی پیشگوئیوں کو لوگوں نے ان واقعات پر چسپاں نہیں کیا۔اس لئے یاجوج و ماجوج دو قومیں بیان کی گئی تھیں اور بتایا یہ گیا تھا کہ وہ دونوں بڑی طاقتور اور جتھے والی ہوں گی اور وہ دونوں طاقتور جتھے باقی ساری دنیا کو مغلوب کرنے کی کوشش کریں گے تاکہ دنیا یا تو ایک گروہ کے ماتحت آ جائے یا دوسرے گروہ کے ماتحت آ جائے۔اس پیشگوئی کو لوگ بھلا اور کہاں چسپاں کر سکتے تھے۔اگر وہ ہلاکو خاں یاجوج بناتے تو ماجوج کہاں سے لاتے اور اگر ماجوج بناتے تو یاجوج کہاں سے لاتے۔پس اللہ تعالیٰ نے اس فتنہ کو ایسا رنگ اور ایسی شکل دے دی تھی کہ کوئی شخص گزشتہ زمانہ میں ایسا نہیں گزرا جس نے ان پیشگوئیوں کو اپنے زمانہ کی طرف منسوب کیا ہو نہ سچے طور پر نہ جھوٹے طور پر اور اس طرح یہ پیشگوئی ہر زمانہ میں که