خطبات محمود (جلد 22) — Page 551
خطبات محمود 551 * 1941 کوئی شبہ ہو سکے کہ ان پیش گوئیوں سے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ و السلام کی صداقت یقینی طور پر ثابت ہوتی ہے۔گزشتہ دو اڑھائی ہزار سال میں سینکڑوں مدعی آئے ہیں مگر کسی نے بھی یہ نہیں کہا کہ یہ پیش گوئیاں میرے زمانہ سے رکھتی ہیں۔غور کر کے دیکھ لو۔کتنی پرانی خبریں ہیں جو اس بارہ میں دی گئی ہیں۔سة تعلق رسول کریم صلى الله ام فرماتے ہیں نوح کے زمانہ سے لے کر اب تک جتنے بھی انبیاء آئے ہیں وہ سارے ہی آخری زمانہ کے فتنوں کو بیان کرتے چلے آئے ہیں۔ان انبیاء کی تمام پیش گوئیاں محفوظ نہیں۔مگر کم سے کم دانیال اور یسعیاہ کی پیشگوئیاں اب تک موجود ہیں۔اور ان پر بھی اڑھائی ہزار سال کا عرصہ گزر چکا ہے۔گویا اڑھائی ہزار سال سے یہ پیشگوئیاں بیان ہوتی آرہی تھیں۔مگر کسی کو یہ جرات نہ ہوئی کہ وہ یہ کہے کہ یہ میرے زمانہ میں پوری ہونے والی پیشگوئیاں ہیں۔آخر وجہ کیا ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ و السلام نے ہی اس امر کا دعویٰ کیا۔اور پھر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ و السلام کے زمانہ میں ہی ان پیش گوئیوں کے پورا ہونے کے آثار ظاہر ہونے شروع ہو گئے۔کیا یہ عجیب بات نہیں کہ چھپیں چھیں سو سال سے جن پیش گوئیوں کو اپنی طرف منسوب کرنے کی کسی کو جرات نہ ہوئی ہو۔نہ سچے کو نہ جھوٹے کو۔ان تما م پیشگوئیوں کو اس زمانہ میں اس شخص نے جو مخالفوں کے نزدیک اپنے دعویٰ میں بالکل جھوٹا تھا اپنی طرف منسوب کیا اور پھر خدا تعالیٰ نے ان پیشگوئیوں کے پورا ہونے کے سامان بھی پیدا فرما دیئے۔یہ کوئی معمولی بات نہیں کہ ایک نبی نہیں ، دو نبی نہیں، تین نبی نہیں، چار نبی نہیں متواتر اور مسلسل اللہ تعالیٰ کے انبیاء ایک فتنہ کی خبر دیتے ہیں۔اتنے تواتر اور تسلسل کے بعد ہو سکتا تھا بلکہ ہونا چاہئے تھا کہ کوئی شخص یہ کہہ دیتا کہ یہ پیش گوئیاں میرے زمانہ سے تعلق رکھتی ہیں جیسے بعض اور پیشنگوئیاں تاویل کے طور پر لوگ اپنی طرف منسوب کرتے رہے ہیں۔مگر اللہ تعالیٰ نے فتنه یاجوج و ماجوج کو اتنا اہم بنایا تھا کہ کسی شخص کو جھوٹے طور پر بھی یہ جرات نہ ہوئی کہ وہ ان پیشگوئیوں کو اپنی طرف منسوب کرے۔بعض باتیں ایسی ہوتی ہیں