خطبات محمود (جلد 22) — Page 546
* 1941 546 خطبات محمود ظاہر کرتے ہیں کہ اس کی کوئی حد ہی نہیں ہوتی۔مگر صحابہ کو جو تکلیفیں پہنچی تھیں ان کا تو قیاس کر کے بھی انسان کا دل کانپ جاتا ہے۔ہٹلر کے متعلق لوگ کہتے ہیں کہ وہ بڑا ظالم ہے مگر اس کے ظلم بھی قریش مکہ کے مظالم کے آگے کیا حقیقت رکھتے ہیں۔ایک غریب صحابیہ عورت تھی۔کفار نے اس کی شرمگاہ میں نیزہ مار کر اسے مار دیا۔6 ایک اور صحابی تھے ان کی ایک ٹانگ ایک اونٹ سے باندھ دی اور دوسری ٹانگ دوسرے اونٹ سے اور پھر ان دونوں اونٹوں کو مخالف سمتوں میں دوڑا دیا گیا اور اس طرح ان کو چیر کر مار ڈالا گیا۔ایک اور صحابی جو پہلے غلام تھے انہوں نے ایک دفعہ نہانے کے لئے گرت اُتارا تو کوئی شخص پاس کھڑا تھا اس نے دیکھا کہ ان کی پیٹھ کا چمڑا اوپر سے ایسا سخت اور گھر درا ہے جیسے بھینس کی کھال ہوتی ہے۔وہ یہ دیکھ کر حیران رہ گیا اور انہیں کہنے لگا تمہیں یہ کب سے بیماری ہے۔تمہاری تو پیٹھ کا چمڑا ایسا سخت ہے جیسے جانور کی کھال ہوتی ہے۔یہ سن کر وہ ہنس پڑے اور کہنے لگے۔بیماری کوئی نہیں جب ہم اسلام لائے تھے تو ہمارے مالک نے فیصلہ کیا کہ ہمیں سزا دے۔چنانچہ تپتی دھوپ میں ہمیں لٹا کر ہمیں مارنا شروع کر دیتا اور کہتا کہ کہو ہم محمد (صلی الیم) کو نہیں مانتے۔ہم اس کے جواب میں کلمہ شہادت پڑھ دیتے۔اس پر وہ پھر مارنے لگ جاتا اور جب اس طرح بھی اس کا غصہ نہ تھمتا تو ہمیں پتھروں پر گھسیٹا جاتا۔عرب میں کچے مکانوں کو پانی سے بچانے کے لئے مکان کے پاس ایک قسم کا پتھر ڈال دیتے ہیں جسے پنجابی میں بھنگر کہتے ہیں۔یہ نہایت سخت، گھر درا اور نوکدار پتھر ہوتا ہے اور لوگ اسے دیواروں کے ساتھ اس لئے لگا دیتے ہیں کہ پانی کے بہاؤ سے انہیں کوئی نقصان نہ پہنچے تو وہ صحابی کہنے لگے کہ جب ہم اسلام سے انکار نہ کرتے اور لوگ ہمیں مار مار کر تھک جاتے تو پھر ہماری ٹانگوں میں رسی باندھ کر ان گھر درے پتھروں پر ہمیں گھسیٹا جاتا تھا اور جو کچھ تم دیکھتے ہو اسی مار پیٹ اور گھسٹنے کا نتیجہ ہے۔غرض سالہا سال تک ان پر ظلم ہوا۔آخر حضرت ابو بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ