خطبات محمود (جلد 22) — Page 520
* 1941 520 خطبات محمود کوئی نئی بات نہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ و السلام کے زمانہ میں مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی نے وائسرائے اور گورنر تک یہ باتیں پہنچائی تھیں کہ یہ لوگ باغی ہیں اور اس انتظار میں ہیں کہ طاقت حاصل ہو تو حکومت کے خلاف اٹھ کھڑے ہوں اور اس بات کا ثبوت یہ ہے کہ مرزا صاحب مہدی ہونے کے مدعی ہیں اور مہدی کے لئے جنگ لازمی چیز ہے مگر فرق صرف یہ ہے کہ اس زمانہ میں حکام کی ذہنیت اور تھی اور اس وقت کے حکام کی ذہنیت اور ہے۔ایک قصہ مشہور ہے۔کہتے ہیں کوئی تاجر شہر کے قاضی کے پاس اپنا روپیہ امانت رکھ کر کہیں دور دراز کے سفر پر گیا۔جب واپس آکر مانگا تو قاضی نے انکار کر دیا اور کہا کہ میرے پاس تم نے کوئی امانت نہیں رکھی تھی۔تاجر بادشاہ کے پاس گیا اور قاضی کی شکایت کی۔بادشاہ نے کہا کہ چونکہ قاضی ایک دفعہ انکار کر چکا ہے تو اسے تسلیم نہ کرے گا۔اب یہی علاج ہے کہ اس پر اثر ڈالا جائے کہ میں تمہارا دوست ہوں۔اور شاید تمہاری بات پر زیادہ اعتبار کروں گا۔میرا جلوس فلاں وقت نکلنے والا ہے اور میں قاضی کے مکان کی طرف سے گزروں گا۔تم بھی اس مکان کے قریب ہی کھڑے رہنا۔میں تمہارے ساتھ اس طرح گفتگو کروں گا جیسے بے تکلف دوست سے کی جاتی ہے۔تم گھبرانا نہیں اور دلیری سے باتیں کرنا۔چنانچہ جلوس کے وقت وہ تاجر قاضی کے مکان کے قریب ہی آکر کھڑا ہو گیا۔بادشاہ وہاں پہنچا تو پہچان کر کہنے لگا کہ فلاں تاجر صاحب سنائیے کیا حال ہے۔مدت آپ ملے ہی نہیں۔تاجر نے جواب دیا حضور اچھا ہوں۔میں باہر گیا ہوا تھا واپس آیا تو بعض پریشانیاں لاحق ہو گئیں۔لین دین کے معاملات میں کچھ خرابی تھی۔اسی میں لگا رہا۔بادشاہ نے کہا کہ یہ کیا بات ہے۔آپ یہ کیا بات ہے۔آپ ہمارے دوست ہیں۔چاہئے تھا فوراً ہمارے پاس پہنچتے۔وہ کونسی پریشانی تھی جسے ہم دور نہ کر سکتے۔تاجر نے کہا۔نہیں حضور وہ خود ہی دور ہو جائیں گی۔حضور کو تکلیف دینے کی ضرورت نہیں۔تاہم اگر کوئی موقع ہوا تو حاضر ہو کر عرض کروں گا۔بادشاہ تو یہ باتیں کر کے ހނ