خطبات محمود (جلد 22)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 479 of 712

خطبات محمود (جلد 22) — Page 479

* 1941 479 خطبات محمود پسند کرتا ہے اور اس نے خدا کے پاس جانا پسند کر لیا۔یہ ایک مثال ہے جو آپ نے مومن کی بیان فرمائی ہے۔ابو بکر کو کیا ہوا ہے کہ وہ خوامخواہ رونے لگ گئے ہیں مگر حضرت ابو بکر کے آنسو بند نہ ہوئے۔وہ اتنا روئے اتنا روئے کہ اور لوگوں نے انہیں تسلی دینی شروع کر دی مگر وہ برابر روتے چلے گئے۔آخر رسول کریم صلی الی یوم نے فرمایا۔اے لوگو سنو ہر ایک شخص کا ایک بڑا گہرا اور انتہاء درجہ کا دوست ہوتا ہے اور ابو بکر میرا ویسا ہی دوست ہے۔پھر آپ نے فرمایا خدا میرا خلیل ہے۔اگر خدا کے سوا کسی اور کو خلیل بنانا جائز ہوتا تو میں ابو بکر کو بناتا۔میں حکم دیتا ہوں مسجد کی ساری کھڑکیاں بند کر دی جائیں سوائے ابو بکر کی کھڑکی کے۔7 یہ حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ کی خلافت کی ایک پیشگوئی تھی۔کیونکہ خلیفہ کو نماز پڑھانے کے لئے مسجد میں آنا پڑتا ہے۔بعد میں رسول کریم صلی ا ہم نے اور کئی باتیں بیان کیں یہاں تک کہ صحابہ پر بھی یہ بات منکشف ہو گئی کہ رسول سی ایلم کی اب جلد وفات ہونے والی ہے اسی دوران میں چند دنوں کے بعد آپ بیمار ہو گئے۔ایک دن آپ باہر تشریف لائے مجلس میں بیٹھے اور صحابہ سے فرمایا کہ اب میری موت قریب ہے، میں نہیں چاہتا کہ اللہ تعالیٰ کے سامنے میں مجرم کی حیثیت میں پیش ہوں۔مجھے ہمیشہ تم سے معاملات پیش آتے رہے ہیں۔ممکن ہے کہ کسی معاملہ میں مجھ سے غلطی ہو گئی ہو اور میرے ہاتھ سے تم میں سے کسی کو اذیت پہنچی ہو۔اگر تم میں کوئی شخص ایسا ہے جو سمجھتا ہے کہ میں نے اس کا حق مارا ہے تو وہ آج مجھ سے اس کا بدلہ لے لے۔صحابہ کو رسول کریم سے جو عشق تھا۔اسے دیکھتے ہوئے تمہاری سمجھ میں آ سکتا ہے کہ یہ فقرہ سن کر ان کی کیا حالت ہوئی ہو گی۔جس طرح ذبح کیا ہوا مرغ تڑپتا ہے اسی طرح وہ بے تاب ہو کر رونے لگ گئے۔مگر ایک شخص کھڑا ہوا اور کہنے لگا يَا رَسُولَ اللہ ! مجھے آپ سے ایک تکلیف پہنچ چکی ہے اور چونکہ آپ نے اس وقت فرمایا ہے کہ اگر کسی کو مجھ سے کوئی تکلیف پہنچی ہو تو وہ اس کا بدلہ لے لے اس لئے میں اپنی تکلیف کا بدلہ لینا چاہتا ہوں۔آپ نے