خطبات محمود (جلد 22)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 457 of 712

خطبات محمود (جلد 22) — Page 457

* 1941 457 خطبات محمود ނ اس قانون کا یہ منشاء ہو جو پولیس نے سمجھا لیکن چونکہ میں نے اس کے متعلق گورنمنٹ کو توجہ دلائی ہے اس لئے میں دیکھنا چاہتا ہوں کہ گورنمنٹ اس کا کیا جواب دیتی ہے۔اگر گورنمنٹ کا یہی منشاء ہے تو بغیر مزید تحقیق کئے ابھی کہے دیتا ہوں کہ اس کے ماتحت ہندوستان میں کسی شخص کی عزت محفوظ نہیں اور اگر اس قانون کا یہ منشاء نہیں اور گورنمنٹ نے ایسے اصول تجویز کئے ہیں جن سے اس قسم کے خطرات کا ازالہ ہو سکتا ہے تو یقینا گورنمنٹ کا فرض ہے کہ ان لوگوں کو جو اس واقعہ کے ذمہ دار اور اصل مجرم ہیں سزا دے۔مقامی پولیس بھی بے شک قصور وار ہے لیکن وہ اس قدر جرات نہیں کر سکتی جب تک سی آئی ڈی کے کسی افسر کا اس میں ہاتھ نہ ہو۔چنانچہ جب ہم نے ان سے پوچھا کہ تمہیں اس پیکٹ کا کیونکر علم ہوا تو انہوں نے کہا کہ ہمیں سی آئی ڈی کے افسر نے بتایا تھا۔میرے پاس اس شبہ کی کافی وجوہ موجود ہیں کہ یہ پیکٹ پولیس نے ہی خلیل احمد کے نام بھجوایا تھا لیکن میں ان وجوہ کو ابھی ظاہر نہیں کرتا۔میں نے سر دست ت پنجاب کو اس طرف توجہ دلائی ہے اگر اس نے توجہ نہ کی تو وہ وقت ہو گا جب ہم سمجھیں گے کہ حکومت اس قسم کے افعال کو پسندیدہ سمجھتی ہے یا اس واقعہ کے بعد اسے پسند کرنے لگی ہے ابھی اس بارہ میں میں کوئی فیصلہ نہیں کرتا۔میں نے بتایا ہے کہ ابھی ہمیں اس بات کا کوئی پختہ علم نہیں کہ حکومت پنجاب کا اس واقعہ کے ساتھ تعلق ہے یا نہیں۔لیکن میں سمجھتا ہوں مقامی حکام پر اس کی ذمہ داری عائد نہیں ہوتی کیونکہ جس ذمہ دار مقامی حاکم کو اس کا علم ہوا اس نے ہمارے ساتھ شریفانہ طور پر سلوک کیا۔سر دست میں نے جماعت کے نمائندوں کو بلوایا ہے کہ وہ اتوار کے دن یہاں آئیں ان سے اس کے متعلق مشورہ لیا جائے گا اور تمام واقعات کو ان کے سامنے رکھا جائے گا بہت سے واقعات ایسے ایسے ہیں جن کو میں نے ابھی بیان نہیں کیا کیونکہ اگر مقدمہ ہوا تو اس وقت وہ کام آئیں گے۔پھر ان کا بیان کرنا اس لحاظ سے بھی میں نے مناسب نہیں سمجھا کہ ممکن ہے جماعت میں -