خطبات محمود (جلد 22)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 453 of 712

خطبات محمود (جلد 22) — Page 453

* 1941 453 خطبات محمود اس پر وہ کسی دوسرے کو بلا لایا جو وردی پہنے ہوئے تھا۔اس سے جب پوچھا گیا کہ کیا تم انچارج ہو ؟ تو وہ کہنے لگا میں کس طرح انچارج ہو سکتا ہوں؟ میں تو جونیئر ہوں انچارج تو یہ ہے جو بغیر وردی کے ہے۔اس پر مسٹر سلیٹر بھی حیران ہوئے اور انہوں نے اسی شخص سے جو بغیر وردی کے تھا کہا کہ تم اس کیس کے متعلق میرے پاس رپورٹ کرو پھر میں اس کا فیصلہ کروں گا۔میں نے اس دوران انہیں توجہ دلائی کہ آپ دیکھیں یہ لوگ کس قسم کی حرکات کر رہے ہیں کہ اصل انچارچ بغیر وردی کے ہے اور جو وردی میں ہے وہ انچارج ہونے سے منکر ہے۔اس سے وہ بہت متاثر وئے اور کہنے لگے کہ انسپکٹر بیمار تھا اگر وہ اچھا ہوتا تو شاید اس طرح واقعات نہ ہوتے۔خیر وہ بے وردی شخص تو رپورٹ لکھنے کے لئے چلا گیا اور مسٹر سلیٹر انتظار کرتے رہے مگر جب دیر ہو گئی۔ہم نے ان سے کہا کہ آپ تشریف لے جائیے جب رپورٹ آئے گی اگر آپ چاہیں گے تو لڑکے کو آپ کے پاس ضمانت کے لئے پیش کر دیا جائے گا۔چنانچہ اس پر رضامند ہو کر چلے گئے اور کہہ گئے کہ ڈی۔سی بھی شام کو آ جائیں گے میں نو بجے اطلاع دوں گا۔اگر ضرورت ہوئی تو مرزا مظفر احمد، خلیل احمد کو لے کر آجائیں میں ضمانت لے لوں گا۔وہ تو چلے گئے مگر پولیس والے برابر بارہ بجے سے لے کر سات بجے شام تک رائفلیں لے کر ہمارے مکان کے میں کھڑے رہے۔پھر میں نے اپنے دوستوں سے کہا کہ اب تم ان سے پوچھو یہ کس قانون کے ماتحت یہاں کھڑے ہیں اور ان سے لکھوا لو تاکہ بعد میں یہ نہ کہہ دیں کہ ہم تو اس وقت تک وہاں نہیں ٹھہرے۔انہوں نے کہا ہم کچھ لکھ کر دینے کے لئے تیار نہیں اس پر مرزا عبد الحق صاحب نے کہا کہ اس کا تو یہ مطلب ہے جس طرح تم نے آج جھوٹ بولا ہے اسی طرح کل جھوٹ بول دو اور کہہ دو کہ ہم تو وہاں گئے ہی نہیں تھے پھر مرزا عبد الحق صاحب پلیڈر نے ان سے کہہ دیا کہ اگر لکھ کر نہیں دیتے کہ ہم اس وقت تک بالا افسروں کے حکم سے مکان پر قبضہ کئے ہوئے ہیں تو پھر تمہارا کوئی حق یہاں ٹھہرنے کا نہیں پھر تم نکل جاؤ۔میں نے