خطبات محمود (جلد 22)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 426 of 712

خطبات محمود (جلد 22) — Page 426

خطبات محمود۔426 * 1941 دوسرے درجہ پر دنیا کے امن اور سکون کا باعث ہوتے ہیں۔یہ ضروری نہیں کہ ایسے لوگ بڑے لیکچرار ہوں، یہ ضروری نہیں کہ ایسے لوگ خطیب ہوں۔یہ ضروری نہیں کہ ایسے لوگ پھر پھر کر لوگوں کو تبلیغ کرنے والے ہوں۔ان کا وجود ہی لوگوں کے لئے برکتوں اور رحمتوں کا موجب ہوتا ہے اور جب کبھی خدا تعالیٰ کی طرف سے بندوں کی نافرمانی کی وجہ سے کوئی عذاب نازل ہونے لگتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس عذاب کو روک دیتا ہے اور کہتا ہے ابھی اس قوم پر مت نازل ہو کیونکہ اس میں ہمارا ایسا بندہ موجود ہے جسے اس عذاب کی وجہ سے تکلیف ہو گی۔پس اس کی خاطر دنیا میں امن اور سکون ہوتا ہے۔مگر یہ لوگ جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ و السلام پر ایمان لائے یہ تو اس عام درجہ سے بھی بالا تھے ان کو خدا نے آخری زمانہ کے مامور اور مرسل کا صحابی اور پھر ابتدائی صحابی بننے کی توفیق عطا فرمائی اور ان کی والہانہ محبت کے نظارے ایسے ہیں کہ دنیا ایسے نظارے صدیوں میں بھی دکھانے سے قاصر رہے تم میں سے بہت ہیں جو اپنے آپ کو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوة و السلام کا عاشق سمجھتے ہیں مگر عشق کی آگ اپنے دھوئیں سے پہچانی جاتی ہے اور یہ ایک حقیقت ہے کہ ہم نے ان کے دلوں میں سے عشق کی آگ کا جو دھواں اٹھتا دیکھا وہ اور لوگوں کے دلوں میں سے اٹھتا نہیں دیکھا۔اس لئے صرف ممنہ کے دعویٰ پر ہم یقین نہیں کر سکتے۔بے شک ہم اتنی بات مان سکتے ہیں کہ کہنے والا اپنے نقطہ نگاہ سے اپنے آپ کو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ و السلام کا عاشق ہی سمجھتا ہے اور اس میں وہ جھوٹ سے کام نہیں لے رہا مگر موازنہ کرنا تو ہمارا کام ہے اور ہم جنہوں نے پہلوں کی محبت کے نظارے دیکھے اور بعد کے لوگوں کے دعوے بھی نے بآسانی فیصلہ کر سکتے ہیں کہ ان میں سے سچا عاشق کون ہے ورنہ یوں تو ہر اپنی محبت کو دوسروں سے فائق سمجھا ہی کرتا ہے۔علیہ مجھے وہ نظارہ نہیں بھولتا اور نہ بھول سکتا ہے کہ حضرت مسیح موعود الصلوۃ و السلام کی وفات پر ابھی چند ماہ ہی گزرے تھے کہ ایک دن باہر سے