خطبات محمود (جلد 22) — Page 337
* 1941 338 خطبات محمود ایب ڈی کیٹ ہو گیا ہے۔اسی طرح مجھے بتایا گیا تھا کہ تار آئی ہے امریکہ نے برطانیہ کی امداد کے لئے اٹھائیس سو ہوائی جہاز دیا ہے۔یہ خبر بھی ایسی تھی جسے کوئی انسانی دماغ وضع نہیں کر سکتا تھا کیونکہ اس میں ایک طرف تار کا لفظ تھا دوسری طرف امریکہ کا لفظ تھا تیسری طرف اٹھائیس سو ہوائی جہازوں کا ذکر تھا۔میں نے یہ خواب بھی چوہدری ظفر اللہ خان صاحب کو لکھ کر بھیج دی تھی اور انہوں نے کئی وزراء کے آگے اسے بیان کر دیا۔شاید گزشتہ اکتوبر کی بات ہے کہ میں اپنے گھر میں بیٹھا تھا کہ کسی نے مجھے اطلاع دی کہ باہر سے فون آیا ہے۔میں گیا اور امرت سر کے دفتر سے پتہ لگایا کہ کہاں سے فون آیا ہے۔انہوں نے بتایا کہ شملہ سے آیا ہے۔میں نے کہا کنکشن ملا دو۔تھوڑی دیر کے بعد مجھے چوہدری ظفر اللہ خان صاحب کی آواز آئی جو جوش اور خوشی سے کانپ رہی تھی۔انہوں نے کہا مبارک ہو۔میں نے کہا خیر مبارک مگر یہ تو بتائیں کہ یہ مبارک کیسی ہے۔انہوں نے کہا آپ کو یاد ہے نے فلاں مہینہ میں مجھے ایک چٹھی لکھی تھی جس کا مضمون یہ تھا کہ مجھے اللہ تعالیٰ نے بتایا ہے کہ امریکہ سے تار آئی ہے کہ امریکہ نے اٹھائیس سو ہوائی جہاز انگریزوں کو بھجوایا ہے۔میں نے کہا مجھے یاد ہے۔وہ کہنے لگے پھر آج یہ خواب پوری ہو گئی ہے اور امریکہ سے انگریزی نمائندہ کی تار آئی ہے کہ امریکہ نے اٹھائیس سو ہوائی جہاز انگریزوں کو دیئے ہیں۔چوہدری ظفر اللہ خان صاحب نے یہ بھی بتایا کہ جب مجھے یہ خبر پہنچی میں نے اسی وقت اپنے پرائیویٹ سیکرٹری کو جو غیر احمدی تھا بلایا اور کہا کہ تم کو یاد ہے میں نے تمہیں امام جماعت احمدیہ کی ایک خواب سنائی تھی۔وہ کہنے لگا کونسی خواب، کیا وہی جو اٹھائیس سو ہوائی جہازوں والی تھی؟ میں نے کہا ہاں وہی خواب۔چنانچہ اس کے بعد میں نے تار اس کے سامنے کر دیا کہ لو پڑھ لو، اس میں کیا لکھا ہے۔پھر وہ کہتے ہیں میں نے اسی وقت سر کلو (جو غالباً ریلوے کے وزیر ہیں) کو فون کیا اور کہا کہ آپ کو یاد ہے میں نے آپ کو امام جماعت احمدیہ کی