خطبات محمود (جلد 22) — Page 334
خطبات محمود 335 * 1941 معاملہ ہو گا اور جن کے ہاتھ پر اس کے نشانات ظاہر ہوں گے مگر مولوی محمد علی صاحب کو دیکھ لو وہ خشک فلسفی کی طرح الہام کی ہمیشہ مخالفت کریں گے اور کبھی کوئی ایسا نشان بتا نہیں سکیں گے جو ان کے ہاتھ پر خدا تعالیٰ نے ظاہر کیا ہو۔حالانکہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں میرے فرقہ کے لوگوں کی علامت یہ ہو گی کہ “اپنے دلائل اور نشانوں کے رو سے سب کا منہ بند کر دیں گے۔” یعنی ان کے پاس صرف وہی دلائل نہیں ہوں گے جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ و السلام کی صداقت کے ظاہر ہوئے بلکہ ان کے پاس ایسے نئے دلائل اور نئے نشانات بھی ہوں گے جو ان کی ذات میں ظاہر ہوئے ہوں گے۔نشانات معجزات کو ہی کہا جاتا ہے۔پس مطلب که قبل از وقت ان پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے غیب کی خبریں ظاہر کی جائیں اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ و السلام فرماتے ہیں کہ یہ میری جماعت کی علامت ہو گی مگر مولوی محمد علی صاحب الہامات پر ہنسی اڑاتے ہیں اور خود انہیں الہام کا کوئی دعویٰ نہیں۔ان کی حالت بس ایک خشک پتا کی سی ہے۔خود تو انہوں نے کبھی کوئی الہام پیش نہیں کیا اور اگر کوئی دوسرا انہیں اپنا الہام بتائے تو اس پر ہنسی اڑانے لگ جاتے ہیں۔اس لحاظ سے بھی ہم میں اور غیر مبائعین میں کیسا عظیم الشان فرق ہے۔دونوں طرف کے لیڈروں کو ہی لے لو میرے صرف ایک سال کے رؤیا و کشوف اور الہامات اگر جمع کئے جائیں تو وہ مولوی محمد علی صاحب کی ساری عمر کے خوابوں سے بڑھ جائیں گے۔پھر اگر ان رؤیا و کشوف اور الہامات کولے لیا جائے جو پورے ہونے سے پہلے غیر مذاہب والوں کو بتا دیئے گئے تھے تو اس میں بھی مولوی محمد علی صاحب میرا مقابلہ نہیں کر سکتے۔موجودہ جنگ کو ہی دیکھ لو۔ابھی لڑائی شروع بھی نہیں ہوئی تھی کہ اللہ تعالیٰ نے مجھے ایک رؤیا کے ذریعہ بتا دیا تھا کہ جنگ شروع ہونے والی ہے اور اس جنگ میں ایسے حالات پیدا ہوں گے کہ انگریز فرانسیسی حکومت سے یہ درخواست کریں گے