خطبات محمود (جلد 22) — Page 307
* 1941 308 خطبات محمود تو وہ ہے جس نے زمین و آسمان کو پیدا کیا اور دنیا کی ہر چیز کو پیدا کیا۔جَعَلَ لَكُمْ مِّنْ أَنْفُسِكُمْ أَزْوَاجًا وَ مِنَ الْأَنْعَامِ أَزْوَاجًا۔ہر چیز کے جوڑے بنائے ہیں۔مرد کے لئے عورت جوڑا بنایا ہے اور عورت کے لئے مرد جوڑا بنایا ہے پھر جانوروں کے بھی جوڑے بنائے ہیں۔يَذْرَدُّكُم فيهِ۔اس تدبیر سے وہ تم کو کثرت بخشتا ہے نسل میں بھی اور مال میں بھی۔لیکن اللہ تعالیٰ خودلَمْ يَلِدْ وَلَمْ يُولَدُ 4 ہے۔نہ کسی نے اس کو جنا اور نہ اس نے کسی کو جنا۔مگر انسانوں اور جانوروں کے لئے اس نے جوڑے بنائے ہیں اور اس ذریعہ سے ان کو کثرت بخشتا ہے اور اس طرح نسل ترقی کرتی ہے، مال رقی کرتا ہے۔اگر جوڑے پیدا نہ کرتا تو نسل نہ بڑھ سکتی، سواری کے لئے گھوڑے مل سکتے ، گوشت کھانے کے لئے بکریاں نہ مل سکتیں، زراعت کے لئے بیل نہ مل سکتے اور اس طرح نہ تو دولت بڑھ سکتی اور نہ نسل چل سکتی۔اس نے تمہارے لئے یہ کثرت کے سامان پیدا کر دیئے ہیں اور یہ کثرت ہی دلیل ہے اس بات کی کہ خدا نہیں ہو سکتے کیونکہ جس چیز کے بڑھنے کے سامان پیدا ہوں وہ محتاج الی الغیر ہوتی ہے۔بڑھنے کا قانون جاری ہی ان اشیاء پر ہوتا ہے جنہوں نے اپنی ضرورت کے ختم ہونے سے پہلے فنا ہو جاتا ہو لیکن جو اشیاء اس وقت تک موجود رہتی ہیں کہ جس وقت تک ان کی ضرورت ہے ان کے متعلق بڑھنے کا کوئی قانون جاری نہیں ہو تا۔انسان کی جس وقت تک اس دنیا میں ضرورت ہے اس وقت تک وہ زندہ نہیں رہ سکتا۔اس لئے انسان کے اندر بڑھوتی کا قانون جاری کیا گیا ہے اور تناسل کا دروازہ اس کے لئے کھولا گیا ہے لیکن سورج چاند زمین چونکہ اس وقت تک قائم رہنے والے ہیں جب تک کہ ان کی ضرورت ہے۔ان میں کوئی تناسل کا سلسلہ جاری نہیں۔غرض جس چیز نے اپنی ضرورت کے مطابق قائم رہنا اور پھر ختم ہو جانا ہے اس کے لئے بیوی اور اولاد کی ضرورت ہے۔جوڑے، اولاد اور تدقمر کا سلسلہ انہی کے لئے ہے جنہوں نے فنا ہو جانا ہوتا ہے۔پہاڑوں کے لئے اس کی ضرورت نہیں۔چاند، سورج اور ستاروں کے لئے نہیں۔بیوی بچوں کی ضرورت ان کے لئے