خطبات محمود (جلد 22)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 275 of 712

خطبات محمود (جلد 22) — Page 275

خطبات محمود 276 * 1941 کے قول پر ترجیح دیتے ہیں متواتر اس رسالہ میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوة و السلام کو نبی لکھتے رہے ہیں اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ و السلام کی وفات تک نبوت بکر پر ہی زور دیتے رہے ہیں۔کہیں چیلنج دیتے ہیں کہ آپ کا مقابلہ حضرت ابو حضرت عمررؓ اور حضرت حسنؓ یا حسین سے نہیں کیا جا سکتا۔ان بزرگوں کو آپ کے مقابلہ میں پیش کرنا غلطی ہے کیونکہ یہ نبی نہ تھے اور آپ نبی ہیں۔کہیں لکھا ہے کہ آپ کی صداقت معیارِ نبوت پر پر کھنی چاہئے۔غرض وہ اہل قلم جو اس زمانہ میں سلسلہ کا پیغام دنیا کو پہنچاتے رہے آپ کا نبوت کا مقام ہی پیش کرتے رہے مگر آج ہمیں بتایا جاتا ہے کہ ان سب الفاظ سے مراد محد ثیت تھی۔جب اللہ تعالیٰ نے آپ کو بار بار نبی اور رسول فرمایا تو اس کی مراد اس سے محدثیت تھی۔جب آنحضرت صلی الی یم نے نبی اللہ فرمایا تو اس سے بھی محدثیت مراد تھی۔جب حضرت مسیح موعود علیہ السلام خود اپنے آپ کو نبی اللہ لکھتے رہے 12 تو اس سے مراد بھی محدثیت تھی اور جب لکھتا تھا تو اس سے مراد بھی محدثیت تھی۔مگر ہم کہتے ہیں کہ بہت اچھا جناب اگر نبوت اور رسالت کے الفاظ جو آپ استعمال کرتے رہے اس سے مراد محدثیت تھی تو پھر آپ نے ان الفاظ کا استعمال اب کیوں ترک کر دیا۔اگر نبوت کے معنی محدثیت کے ہیں تو اب بھی وہی لفظ استعمال کریں اور اسی زور سے استعمال کریں۔اس زمانہ میں تو آپ خدا کا رسول، خدا کا آخری رسول، آخری زمانہ کا رسول آپ کو لکھتے تھے مگر اب “پیغام صلح 13 کو دیکھ لو کبھی یہ الفاظ نظر نہ آئیں گے۔اگر ان الفاظ کے معنی وہی تھے جو آج آپ بتاتے ہیں تو پھر آج ان کے استعمال میں کیا حرج ہے۔کیوں آج انہیں استعمال نہیں کرتے؟ غرض آج آپ کا ان الفاظ کو استعمال نہ کرنا اس بات کا ثبوت ہے کہ جب آپ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی زندگی میں آپ کو نبی اور رسول لکھتے تھے تو ان سے مراد نبی اور رسول ہی سمجھتے تھے۔اس طرح جب خد اتعالیٰ آپ کو نبی کہتا تو وہ نبی ہی سمجھتا تھا۔جب محمد مصطفی صلی ا ہم نے آپ کو نبی کہا تو اس سے مراد نبی ہی تھی اور جب آپ نے